Pages

Friday, 10 May 2013

دلی کےسیلانی : سید ضمیر حسن دہلوی


دِلّی کے سیلانی


دلی کے سیلانی جوڑے بڑے مشہور تھے۔ یہاں کے لوگوں کو سیر سپاٹے بڑے عزیز تھے۔ ایمانداری سے کمانا اور کھانا اڑانا دلی والوں کی زندگی کا بنیادی اصول تھا۔ کرخندار جب تک اپنی کمائی کا پیسہ پیسہ خرچ نہ کردیتے تھے کارخانے کا رخ نہیں کرتے تھے۔ عرس، فاتحہ، میلے ٹھیلے، بسنت، پھول والوں کی سیر، سلطان جی کی سترہویں، اوکھلے اور محلدار خاں کی ٹر سب شاہی زمانے کی طرز پر کل تک برقرار تھے۔ سڑکوں پر موٹریں تو کم دکھائی دیتی تھیں تانگے اور ریڑھیوں کا رواج تھا۔ ببر کے تکیہ سے آگے متھرا روڈ پر رات کے اندھیرے میں گیڈر بولتے تھے۔ سترہویں کے موقع پر دلی والے اسی اندھیرے میں ریڑھیاں، تانگے دوڑاتے، سیٹیاں بجاتے، پیری بولتے چلے جاتے تھے۔ شوقین لوگ تھے۔ گھوڑوں کو جلیبیاں کھلا کے دوڑاتے تھے۔ آگے پیچھے سواریاں دوڑتیں تو بڑا مزا آتا تھا۔ سترہویں حضرت نظام الدین اولیاء کی برسی کے موقع پر منائی جاتی تھی۔ سال میں دوسری بار یہ میلہ حضرت امیر خسرو کی برسی کے لیے منایا جاتا تھا۔ درگاہ کے ارد گرد چاروں طرف کھیل کود کے لیے جھولے ہنڈولے اور کھانے پینے کے لیے حلوے پراٹھے اور مٹھائی کچوری کی دکانیں لگائی جاتی تھیں۔ قریب کے میدانوں میں پتنگ بازی کے مقابلے ہوتے تھے۔ کشتیاں اور ٹپا بازی کے مظاہرے ہوتے تھے۔ ایک خاص مقابلہ گرامو فون ریکارڈنگ کا بھی ہوتا تھا۔ دو الگ الگ پارٹیاں آمنے سامنے بیٹھ جاتی تھیں۔ ایک طرف سے کسی اچھے گیت کا ریکارڈ بجایا جاتا تھا، پھر اسی موضوع پر دوسری پارٹی اپنا کوئی ریکارڈ بجاتی تھی، مقابلے بازی کا فیصلہ آخر میں کیا جاتا کہ کس نے مقابلتاً چھے ریکارڈ بجائے۔ اللہ اللہ کیا کیا ریکارڈ سننے کو ملتے تھے، ایک سے ایک بڑھ کر۔ ان ریکارڈ بجانے والوں کے ذوق شوق کی داد دینی پڑتی تھی۔ سال بھر تک اچھے ریکارڈ جمع کرتے اور اس مقابلے میں انہیں پیش کر کے ناموری حاصل کی جاتی تھی۔ سترہویں میں آنے والے زرق برق لباس پہن کر آتے تھے۔ عورتیں اور بچے بھی بن ٹھن کر آنے کا حق ادا کردیتے تھے۔ اندر درگاہ میں حضرت کے مزار کے قریب ایک دالان میں عورتیں قیام کرتی تھیں۔ اسی دالان سے منسلک مسجد ہے جس میں بوقت نماز اچھا خاصا مجمع ہوجاتا تھا۔ باہر صحن میں قوال بیٹھ کر گاتے تھے۔ قوالی کے بول عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے مطابق ہوتے تھے، کبھی کبھی وہ فارسی کی بھی غزلیں سناتے تھے، مگر وہ اس قدر عام فہم ہوگئی تھیں کہ سننے والے ان سے حظ اٹھا سکیں۔ حضرت امیر خسرو کا رنگ بڑے زور شور سے گایا جاتا تھا۔ مجاور ادھر ادھر لوگوں کی مدارات کرتے پھرتے تھے۔ درگاہ کے قریب ہی عرس محل تھا، جہاں خواجہ حسن نظامی ایک مسند پر تشریف رکھتے تھے اور اعلیٰ درجے کے قوالوں کی جوڑیاں اس عرس محل میں خواص پسند غزلیں اور فارسی شعراء کا کلام بڑے اہتمام سے پیش کرتی تھیں۔ اس محفل میں دلی کے عمائدین اور خواص مدعو کیے جاتے تھے، اس لیے یہاں بڑا صاف ستھرا ماحول اور ادبی فضا ہوا کرتی تھی۔ خواجہ حسن نظامی کو دلی والے ضرور جانتے ہوںگے، آج بھی ان کا نام لیے جانے پر لوگوں کو ان کے گھر کی محفلیں یاد آجائیں گی۔ منادی اخبار میں لوگوں نے ان کی جاوداں نثر کا مطالعہ کیا ہوگا۔ بڑے عمدہ نثرنگار اور جادو بیان بزرگ تھے۔ا ن کے کارناموں کا ذکر کیاجائے تو ایک دفتر مرتب ہوجائے گا۔ خدا سلامت رکھے، ان کے صاحبزادے خواجہ حسن ثانی نظامی بقید حیات ہیں اور اپنی وضع داری کو نبھارہے ہیں، مگر وہ مولوی مدن والی بات اب کہاں۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ قوالیوں کے بجائے لوگ آج کل کی دھواں دھار میوزک کے عادی ہیں۔ اردو اور فارسی غزلوں کے سمجھنے والے اللہ کو پیارے ہوگئے، ایک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے، اب نہ وہ لوگ رہے جو بزرگوں سے عقیدت رکھتے تھے، نہ وہ لوگ رہے جو سیر سپاٹے کے شوقین تھے اور سال بھر کی کمائی دو چار دن میں پھونک دیتے تھے۔ یہ سب کچھ آج بھی ہوتا ہے مگر اس میں پہلی سی مزیداری نہیں، بقول غالب، چراغ بے نور ہے۔ چار سو اندھیرے کی عمل داری ہے۔ یادوں کی برات سے خوش ہونے کا سامان مہیا کیجیے اور شکر کیجیے کہ ابھی کچھ تو ہے کل یہ بھی نہ رہے گا تو آپ کیا کرلیںگے۔ گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را۔

دلی کے میلوں میں پتنگ بازی کے مقابلے بھی ضرور ہوتے تھے۔ بڑے بڑے ہاتھ لگتے تھے۔ ان مقابلوں کے لیے دنوں پہلے سے مانجھے سوتے جاتے تھے۔ آرڈر پر تکلیں بنتی تھیں، جہاز کی جہاز پتنگیں ہوتیں اور اتنی اتنی دور تک بڑھایا جاتا تھا کہ وہ پار نکل جاتی تھیں، پھر جو کھنچائی ہوتی تو گڈیاں سدھ کھڑی ہوجاتی تھیں۔ کچھ پتنگ باز ایسے تھے کہ صرف ڈھیل کے پینچ لڑاتے تھے، ان کی انگلیاں سدھی ہوئی تھیں۔ جدھر چاہتے پتنگیں جھونک کھا جاتی تھیں۔ بل دینے پر آتے تو تگنی کا ناچ نچا دیتے تھے۔ بچنے والا لاکھ بچاتا مگر ان کے پھندے سے نکلنا مشکل تھا۔ منہ سے منہ ملے اور دونوں حریفوں نے ڈھیل دینی شروع کی۔ سیروں ڈور پلا دیتے تھے۔ ایک نے ذرا غوطہ مارا تو دوسرے نے پٹیا چھوڑا۔ وہ کاٹا وہ کاٹا کا شور مچ گیا۔ کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور ہاتھ پرسے توڑ دی جاتی تھی۔ غریب لوٹنے والے لوٹ لوٹ کر بڑی بڑی انٹیاں بنالیتے تھے۔ اسی ڈور اور لوٹی ہوئی پتنگ سے وہ اپنا دل بہلاتے تھے۔

دلی میں فالیس پر جانے کا بھی راوج بن گیا تھا۔ گرمیوں کی چاندنی رات میں لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان اور گانے والیوں کو لے کر جمنا کنارے ریتیلی فالیس پر پہنچ جاتے تھے۔ رات بھر کا میلہ ہوتا تھا، سفید سفید چاندنیوں کے فرش پر لمبے چوڑے دسترخوان بچھتے، مزے مزے کے کھانے کھائے جاتے اور کھانے سے فارغ ہو کر جو گانے کی محفل ہوتی تو لوگ جھوم جھوم اٹھتے تھے۔ بڑی ٹھسے دار مجرے والیاں تھیں، غزل گا کر سمجھا تیں تو ایک ایک مصرع دلوں پر نقش ہوجاتا تھا۔ ان گانے والیوں کے رعب حسن سے تماشائی تھراتے تھے۔ مجال نہیں کہ کوئی نظر بھر کر دیکھ لے، آگے چل کر جب طوائفوں کا بازار بند ہوا اور اس فن میں چھچھور پن کا دخل بڑھنے لگا تو دلی والوں نے گراموفون ریکارڈنگ کا ہنر ایجاد کیا اور اس کا لطف اٹھانے لگے۔

بسنت کے موقع پر بھولو کے تکیہ اور محلدار خاں کے باغ میں ایسی محفل ہوتی اور داد عیش دی جاتی تھی کہ اس کے بیان سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ برسات میں امریوں کی سیر کی جاتی تھی۔ جہاز محل اور اولیا مسجد کے تلاؤ پر بیٹھ کر آم پراٹھے کھائے جاتے۔’ جھولا کن ڈار و رے امریاں‘، دلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا یہ گیت آج بھی لوگوں کے دلوں کو گرماتا ہے۔ مہرولی کی ملائی بہت مشہور تھی۔ خوش خوراک پٹھے تو سیروں ملائی چٹ کر جاتے تھے۔ دلی والوں کے برسات میں چنونے کاٹتے تھے۔ سر پر بوند پڑی اور ان کی آنکھوں میں ہوا بھری، مہرولی میں درگاہ کے پاس مستقل کمرے بنے ہوئے تھے جو سیلانیوں کو کرائے پر اٹھائے جاتے تھے۔ لوگ آ آکر یہاں ٹھہرتے اور برسات کا مزا لوٹتے تھے۔

مہرولی میں برائے نام آبادی ہونے اور اریب قریب سبزہ زار کی وجہ سے آب و ہوا اچھی تھی، لوگ اس صحت افزا ماحول میں کچھ دن رہ کر شہر کی کسلمندی دور کیا کرتے تھے۔ دلی کے مغل بادشاہ بھی کچھ دن کے لیے بنفس نفیس مہرولی میں قیام کرتے تھے۔ جہاز محل اور پھول والوں کی سیر اسی بادشاہی میلے کی یادگار ہے، جس کا مزا لینا چاہو تو مرزا فرحت اللہ بیگ کا مضمون پھول والوں کی سیر پڑھ لو۔ دم بخود رہ جاؤگے کہ اللہ ایسا بھی ایک زمانہ گزرا ہے۔ افسوس ہم نہ دیکھ سکے۔

سید ضمیر حسن دہلوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment