Pages

Friday, 10 May 2013

دلّی کی عورتیں ۲ : سید ضمیر حسن دہلوی

دلّی کی عورتیں ۲


میرے  بچپن کی دلی میں عورت کا گھر سے باہر قدم نکالنا معیوب تھا، اس کا منصب یہ سمجھا جاتا تھا کہ چراغ خانہ بنی رہے۔ شمع انجمن طوائفیں ہوتی ہیں۔ شدت پسندی کی بات تو جدا ہے وہ تو بہرحال ظلم اور زیادتی ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عورت کی بے ہنگام آزادی نے آج ہماری زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ معیشت کی مجبوری نے عورت مرد دونوں کو روزگار سے لگا دیا ہے۔ چنانچہ گھر ویران ہوگئے اور تھکے ماندے لوگ رات کے وقت ایک چھت کے نیچیسونے کے گنہگار ہیں دن بھر اوائی توائی پھرتے رہتے ہیں۔ بال بچے اول تو اب پیدا کرنے کا رواج ہی نہیں اور اگر کسی کے یہاں ہیں بھی تو ایک یا دو آگے آیت اللہ بس باقی ہوس پالنا ایک دوکا بھی اب مشکل ہوگیا ہے۔ گھر کے بڑے سب کام پر جاتے ہیں عورت ہو یا مرد کسی کو مفر نہیں بچے بیچارے کسی کے سنگت کو ترستے رہتے ہیں۔ ٹیلی ویژن جو کچھ سکھاتا ہے سیکھتے ہیں اور اپنی عمر سے بہت پہلے بالغ ہوجاتے ہیں۔ بچوں کا بچپن گیا اور بزرگوں کے لیے ان سے ملنے جلنے کے مواقع ناپید ہوگئے۔ پرانی دہلی کی داستان سناتے سناتے کہیں کہیں آج کل کا ذکر بھی آجاتا ہے اور میں دل کے پھپھولے پھوڑ لیتا ہوں، جانتا ہوں کہ اب ان تمام باتوں سے مفر نہیں جو اس عہد کی دین ہیں مگر کیا کروں اگلے فسانے یاد آتے ہیں اور آنکھوں دیکھی باتیں اب دیکھنے کو نہیں ملتیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یادش بخیر وہ دن بھی دیکھے تھے جب ہر طرف آسودگی تھی، عیش و عشرت تھا۔ دل جمعی تھی، امن و امان تھا، میل محبت اور پیار تھا، خلوص اور ایمانداری تھی۔ اب وہ سب ناپید ہوئے اور ان کی جگہ ان کی ضد اور مخالف رسم و رواج نے لے لی۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں۔ صبح سویرے بیدار ہونا موقوف ہوا، رات کو دیر تک جاگتے رہنا عام معمول ہوگیا۔ تہجد کے وقت بستر سنبھالا جاتا ہے اور دوپہر ظہر کے وقت تک خواب خرگوش میں پڑے رہتے ہیں۔ دل کو یہ کہہ کر سمجھا لیجیے کہ سدا ایک جیسے دن نہیں رہتے، جو آج ہے وہ کل نہیں جو کل ہوگاوہ آئندہ نہیں ، ان نینوں کا یہی بسیکھ وہ بھی دیکھا یہ بھی دیکھ۔ لیجیے پھر وہی قصہ سناتا ہوں یعنی اپنے زمانے کی عورتوں کے طور طریقے، رکھ رکھاؤ، شرم و حیا اور سلیقہ مندی دسوں انگلیاں دسوں چراغ رانڈ بیوائیں جن کا کوئی ولی وارث نہ ہوتا تھا۔ بدرجۂ مجبوری سر پر برقعہ ڈال کر باہر نکلتی تھیں۔ برقعے بھی آج کل کے فیشن ایبل نہیں ہوتے تھے جن میں بوٹی بوٹی تھرکتی ہے اور جسم کے خدو خال صاف نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ کھلے سے زیادہ ڈھکے میں جادو ہوتا ہے۔ عورتوں کی خصلت اور فطری مزاج پکار پکار کر کہتا ہے کہ مجھے دیکھیے اور داد دیجیے۔ میں نے اپنا سراپا آپ نظر بازوں کے لیے سنوارا ہے۔ پہلے زمانے میں برقعے سیدھے سادے ڈھیلے ڈھالے گاڑھے گزی یا لٹھے کے ہوتے تھے جن میں ڈیل ڈول ظاہر نہ ہوسکے۔ مجال کیا جو نقاب سرک جائے۔ شادی بیاہ یا کسی اور تقریب میں عورتوں کو گھر سے باہر جانا ہوتا تو ڈولی گھر کے دروازے پر لگ جاتی تھی۔ گھر والے گلی کے رخ چادر تانتے اور ڈولی میں سواریاں بیٹھ جاتیں، اترتے وقت بھی پردے کا یہی اہتمام ہوتا تھا۔ کہار آواز لگاتے ’’سواریاں اتروا لیجیے۔ گھر کی عورتیں دروازے پر آکر مہمانوں کو اترواتیں۔‘‘ کہار منہ پھیر کر چادر تان لیتے تھے۔ کہار بھی محلے ہی کے ہوتے تھے۔ انجانے کہاروں کی ڈولی میں عورتیں سوار نہیں ہوتی تھیں۔ ہر محلے کے سرے پر کہاروں کی دکان ہوتی تھی۔ بڈھے کہار بھی ہوتے تھے اور جوان بھی، مگر کبھی ایسی ویسی بات سننے میں نہیں آئی، اب تو موئے ڈرائیور ہی عصمتوں کے لٹیرے بن گئے ہیں۔ گاڑی میں بیٹھتے عورت کا دم نکلتا ہے خدا جانے زندہ گھر پہنچے یا مردہ سے بدتر۔ ان دنوں کہار ایسے ایماندار ہوتے تھے کہ اگر ڈولی میں کسی کا زیور یا روپیہ پیسہ گر جاتا تھا تو انہی کے گھر پہنچا دیا جاتا تھا۔ خدا جانے وہ کالی کلوٹی مخلوق جو ان دنوں کہاروں کا پیشہ کیا کرتی تھی کہاں رو پوش ہوگئی، جن کے دم سے دلی کے گلی کوچے اور محلے آباد تھے۔ عورتوں کی معصومیت کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے گھر کے بیرونی دروازے نہیں پہنچانتی تھیں۔ آزادی کے بعد جو مار کاٹ ہوئی تو پہاڑ گنج اور قرول باغ میں گھروں سے گھبرا کر عورتیں باہر نکل آئیں۔ ہنگامہ فرو ہونے پر وہ گھر کی ڈیوڑھی نہ پہچان سکیں اور پناہ گزینوں کے کیمپ میں پہنچا دی گئیں۔ جو بندھانی کی موت سے بچ گئے تھے وہ اپنی عورتوں کو کیمپ سے گھر لے گئے اور باقی کا خدا جانے کیا ہوا۔ ہماری ایک عزیز بزرگوار تھیں وہ اپنے زمانے کی عورتوں کا قصہ مزے لے لے کر سناتی ہیں۔ عورت ہونے کے باوجود انہیں عورتوں سے اللہ واسطے کا بیر ہے، مجھے ان سے پورا پورا اتفاق تو نہیں ہے، مگر ان کی باتیں سنتا ہوں تو مزا آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میرے مزاج میں بھی جاگیردارانہ عنصر رچا بسا ہے۔ انشاء اللہ زندگی رہی تو اگلی بار ان کی زبانی داستان خوبان جہاں پیش کروںگا۔ کیا اچھا ہے کیا برا اس کا فیصلہ آپ خود کیجیے گا، اتنا ضرور کہوںگا کہ جب صبح کا اخبار پڑھتا ہوں اور اس میں آٹھ دس خبریں عورتوں کے اغوا اور عصمت دری کی نظر سے گزرتی ہیں تو سچ جانیے اپنی مردانگی سے نفرت ہوجاتی ہے۔ کہتا ہوں اس سے تو وہ زمانہ لاکھ درجے اچھا تھا۔ بہو بیٹیاں آرام سے جی تو لیتی تھیں۔ گھر کی چار دیواری میں ہر طرح کا عیش تھا، ایک موئی نامراد آزادی ہی نہیں تھی۔ بھلا بتائیے تو سہی ایسی آزادی کا کیا کرنا جس میں آدمی خوف زدہ رہے اور ہر گھڑی عزت آبرو، جان جہان سب کو خطرہ ہو۔ بھٹ پڑے وہ سونا جس سے پھٹیں کان۔


شاہجہاں نے دلی بسائی تو اس امر کا خیال رکھا کہ عورتیں جنہیں خرید و فروخت کا شوق ہوتا ہے، انہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہو۔ بیٹی بٹار کی شادی کے لیے جہیز کا سامان کپڑا لتا، زیور سب انہیں ہی خریدنا ہوتا ہے، اس لیے گھر بیٹھے چار دیواری تک محدود زندگی میں ضرورت کی چیزیں خریدی جاسکیں۔ چنانچہ برقعے میں قصائی، کنجڑے، تیلی، تنبولی، بٹیے، بساطی کی دکان ضرور ہوتی تھی۔ ان دکانوں پر ملازم لڑکے رکھے جاتے تھے جو گھر گھر پوچھتے پھرتے تھے کہ بی بی کچھ منگانا ہو تو ہم لا دیتے ہیں۔ دکانوں کے علاوہ دن بھر پھیری والے آتے رہتے تھے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے دروازے پر آنے والے ایسے بھلے لوگ ہوتے تھے کہ نہ تو کبھی ان سے مالی نقصان ہوا اور نہ جانی نقصان ہوا۔ آج کل کی طرح نہیں کہگھر کا کام کاج کرنے کے لیے جو ملازمہ رکھی جاتی ہے۔ وہی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ جو عورت کسی کام سے گھر میں آتی تھی، وہ ڈیوڑھی میں قدم رکھتے ہی دعائیں دینا شروع کردیتی تھی۔ اللہ سلامت رکھے بچے جئیں،  دودھوںنہاؤ پوتوں پھلو، سر کی بادشاہی بنی رہے، روزی روزگار میں برکت ہو، اللہ عمر دراز کرے۔ کرکمینوں کی بول چال بھی شریفوں کے گھروں میں آنے کی وجہ سے منجھ گئی تھی۔ دلی کی مہترانیوںکی زبان تو اس قدر ستھری ہوتی تھی کہ باہر والے ان سے محاورے سیکھتے تھے۔ کمیری کما کر چلی جاتی تو یہ ججمانوں کے گھروں سے روٹی لینے آتی تھیں، صاف ستھرے کپڑے دونوں ہاتھ چاندی کی چوڑیوں سے بھرے ہوئے کلائیوں میں دس دس تولے چاندی کی مگر چودھانیاں، ٹھوس کڑے کانوں میں بالیاں پتے ناک میں سونے کی کیل، ہونٹوں پر لاکھا ہاتھ پیروں میں مہندی رچی ہوئی پور پور چھلے ہاتھ میں قلعی دار کونڈا اس پر چتا ہوا طباق، مجھے یاد ہے ایک مرتبہ والدہ محترمہ کی نیت اس طباق میں رکھی ہوئی شملہ مرچ پر آگئی تو انہوں نے مہترانی سے لے کر کھائی تھی۔ بھید بھاؤ، چھوت چھات کا ان دنوں مطلق رواج نہیں تھا۔ ہر گھر میں انہیں پان پیش کیا جاتا تھا۔ جسے وہدوپٹہ کے آنچل سے اٹھا کھا لیتیں اور دعائیں دے کر چلی جاتی تھیں۔

سید ضمیر حسن دہلوی

No comments:

Post a Comment