دلی کی باتیں
موجودہ نسل جس نے اپنے تئیں دین، دھرم، تہذیب، تمیز، نیکی اور
بھلمنسائی سب سے آزاد کرلیا ہے۔ اگلے لوگوں کی شرافت اور نیک نفسی کو بھلا کب تسلیم
کرے گی۔ ان کے کان میں تو شیطان نے یہ صور پھونکا ہے کہ علم، اخلاق، انسانیت اور غیرت
جیسی ان میں پائی جاتی ہے ویسی نہ کبھی تھی نہ آئندہ ہوگی۔ بس یہی خوش فہمی ہے جس
کے باعث آج کے دور کا ہر شخص افلاطون بنا پھرتا ہے جسے دیکھئے بغلیں کھولے، گردن اکڑائے
فوں فوں کرتا رعونت سے زمین روندتا ہے، اللہ اللہ کسی کو اپنے آگے گردانتا ہی نہیں۔
جدید فلسفیوں اور سائنس دانوں کو اللہ معاف کرے، اپنا خدا بنایا ہے کہ ان کی بات سے
سرمو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ ہاں باپ دادا، بزرگوں، پیر فقیر اور پیغمبروں پر جتنے چاہو
اعتراض کرالو۔ ان کی نظر میں اگلے لوگ سفاک، جاہل، کم کوش، بدعقیدہ، اوہام پرست اور
نہ جانے کیا کیا تھے۔ اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہیں، اس وہم میں مبتلا ہیں کہ جو میرے
ہے سو راجہ کے نہیں۔ اب آپ ہی بتائیے ایسے حالات میں اگر میں قدیم دلی والوں کی نیک
خصلتی، علم دوستی اور وضع داریوں کا رونا رونے لگوں تو کون سننے کا روا دار ہوگا۔ پھر
یہ کہ وہ دلی والے جو خاک نشینی میں کج کلاہی اور فقیری میں شاہی کیا کرتے تھے یا تواللہ
کو پیارے ہوگئے یا بٹوارے کی افرا تفری میں دیس چھوڑ بدیس جابسے۔ غرض یہ کہ اب دلی
والوں کی خوبیاں درگور اور در کتاب ہیں، جس کے دیدے روشن ہیں وہ دیکھتا سمجھتا اور
تسلیم کرتا ہے، جس کے پھوٹ گئے وہ بھلا کیوں ان دیکھی باتوں پر ایمان لائے گا۔
اس کے علاوہ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ مجھے آتا جاتا تو کچھ
ہے نہیں، لکھتا ہوں تو قلم ساتھ نہیں دیتا، بولتا ہوں تو یہ جیسے طوطا ادوان پہ چڑھتا
ہے۔ زبان لڑکھڑاتی ہے نہ علم و ہنر کچھ حاصل کیا، نہ عالموں اور ہمہ دانوں کی صحبت
نصیب ہوئی۔ اس تہی مائیگی پر زبان کھولوںگا تو آپ ہی نکو بنوںگا۔ اپنی بات منوانی
تو درکنار پوری طرح کہنے کا بھی مجھے سلیقہ نہیں۔ دلی پر عروج و زوال کی کہانی وہ سناتے
تھے، جنہیں بارگاہ ایزدی سے زبان و بیان پر قدرت بخشی گئی تھی۔ میر باقر علی داستان
گو یا مرزا فرحت اللہ بیگ اللہ بخشے زندہ ہوتے تو اپنی بات مار مار کے منوالیتے۔ بات
یہ ہے کہ ان کی زبان میں جادو تھا۔ علم و فن انہوں نے ورثے میں پایا تھا۔ اگلے لوگوں
کی صحبت اٹھائی تھی۔ حصول کمال کے لیے راتیں کالی کی تھیں۔ آنکھوں کا تیل نکالا تھا،
جب کہیں جا کر یہ رتبہ انہیں حاصل ہوا تھا۔ مجھ ایسوں کی طرح تھوڑی کہ دس پندرہ سال
کسی تعلیمی ادارے میں جھک مارا، دو چار لفظ انگریزی کے پڑھے، اپنی زبان چھوڑ ایک ست
بیجھڑی زبان اپنائی اور تعلیم یافتہ لوگوں میں شمار کیے جانے لگے۔ آنکھوں کے اندھے
نام نین سکھ ایک ڈگری ہے جو کل سرمایۂ حیات ہے۔ ننگی کیا نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ آپ
ہی آپ کڑھتا ہوں، جب گریبان میں منہ ڈالتا ہوں تو گردن شرم سے جھکی کی جھکی رہ جاتی
ہے۔ دلی میں پیدا ہوا، دلی میں پلا بڑھا، مگر پرانے دلی والوں کی خوبو کچھ مجھ میں
نہیں پائی جاتی۔ مجھ پر تو وہ مثل صادق آتی ہے کہ دلی میں رہے اور بھاڑ جھونکا۔ اب
احساس اپنے جہل کا ہوتا ہے تو اس کا مداوا نہیں کرسکتا۔ عمر عزیز غفلت میں کاٹ دی اور
اگر اس ڈھلتی چھاؤں میں بیڑا بھی اٹھاؤں تو کس کے پاس بیٹھوں کس کی باتیں سنوں جو
کچھ بصیرت مجھے بھی حاصل ہو، انقلابات کی باد سموم نے پروانوں کی خاک تک نہ چھوڑی۔
جو لوگ دہلوی تہذیب کی رسی کو دانتوں سے پکڑے رہے، ایک ایک کر کے اللہ کو پیارے ہوگئے۔
فلک تفرقہ پرواز نے وہ تاک کے پتھر مارا کہ دلی شہر کے آثار تک نیست و نابود کردئے۔
اب لوگ جسے دلی پکارتے ہیں وہ ایک اجڑا دیار ہے، حویلیاں، چھتے، ڈیوڑھیاں، درو دیوار،
طاق اور محرابیں سب دیکھتے دیکھتے دکانوں اور گوداموں کے جنگل میں بدل گئیں۔ جدھر نگاہ
اٹھتی ہے پانچ چھ منزل کے مکان بنے دکھائی دیتے ہیں۔ نیچے بڑی بڑی مارکیٹیں ہیں۔ زمین
کھود کر گودام نکالے گئے۔ دنیا کی چیزیں ان گوداموں میں بھری پڑی ہیں اور خلقت کا اژدہام
خدائی خوار یوں مارا مارا پھرتا ہے جیسے کہیں سے ٹڈی دل نکل پڑا ہو، بھلے آدمی کو
دیکھنے سے وحشت ہوتی ہے، ایسے میں بس اپنا گھر بھلا اور آپ جو لوگ میری طرح ہوس دنیا
سے بھرپائے وہ گوشۂ عافیت میں پڑے رہتے ہیں اللہ اللہ خیرصلا۔ نہ دلی کا یہ حال خراب
دیکھیں گے نہ آنکھوں سے لہو کی دھاریں نکلیں گی۔ میاں اب یہ شہر غالب کے زمانے کا
کیمپ اور چھاؤنی نہیں۔ خدا آباد رکھے منڈی بن گیا ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ نہ صرف
ہندوستان میں بلکہ پورے ایشیا میں یہاں کے بیوپاریوں نے تجارت کا میدان مارا ہے۔ کروڑوں
روپے کی روز لوٹا پھیری ہوتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ہاتھی مرے پہ بھی سوا لاکھ کا ہوتا
ہے، وہ اب دلی کا حال ہے۔ کبھی یہ بین الاقوامی شہر تھا، سیاح، فن کار، ہنرمند چار
کھونٹ سے یہاں آتے اور اپنے کمالات کی داد پاتے تھے، اب وہ اہل علم اور اہل کمال نہیں
آتے یا کم آتے ہیں تو ان کی جگہ ہزاری ہزاری کار و باریوں نے لے لی۔ کبھی کے دن بڑے
کبھی کی راتیں۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ دلی میں تجار کو کم نگاہی سے دیکھا جاتا تھا، اس
لیے نہیں کہ ان سے خدا واسطے کا بیر تھا، بلکہ اس لیے کہ یہ بے چارے رات دن ننانوے
کے پھیر میں پڑے رہتے ہیں۔ صبح اٹھے اور چابیاں لے کے دکان کو سدھارے شام کو آگے گھر
میں پڑے رہے۔ دلی والے جو اپنے تئیں فخر سے دلی والا کہتے تھے وہ کئی کئی گھڑیاں دیوان
خانوں میں گزارتے تھے۔ ادھر ادھر کی گپیں ہانکتے جب زبان خراد پر چڑھتی تھی اور دماغ
یوں پرواز کرنے لگتا تھا جیسے معجونِ فلک سیر کھائی ہو۔
دلی کے دکان داروں کی بھی عجیب شان تھی۔ صبح نو دس بجے تو گھر
سے نکل کر جاتے تھے، ذرا دوپہر ہوئی اور سورج نے سر اٹھایا تو انہوں نے نوکر سے کہہ
کے پردے چھڑوا دئے۔ سفید براق چاندنی پر گاؤ تکیہ اور بغلی تکیے لگائے مزے سے بیٹھے
رہے، جو کوئی اللہ کا بندہ ان کی روزی کا فرشتہ بن کر آتا اسے بٹ لیتے تھے، یہ نہیں
کہ آتے جاتے کو بیواؤں کی طرح اشاروں سے بلارہے ہیں۔ پڑوسی دکانداروں کی ٹوہ میں
لگے بیٹھے ہیں۔ یہی کوشش کرتے ہیں کہ بس ایک میں رہ جاؤں اور ساری دنیا سے دکانداروں
کا اوڑا پھرجائے۔ توبہ توبہ انہیں باتوں سے آدمی خوار ہوتا ہے، انسانیت سے گرجاتا
ہے۔ ہاؤ ہاؤ جو کرموں لکھا سوپاؤ۔ فصیل کے اندر جو دکاندار تھے خدا انہیں کروٹ کروٹ
جنت نصیب کرے، بڑے سیر چشم تھے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے یہاں تک سنا ہے کہ جب ان کی بھرت
پوری ہوجاتی تھی تو گاہک کو پڑوس میں بھیج دیتے تھے۔ اول تو جہاں گلے میں روٹی دال
کے پیسے آئے اور انہوں نے نوکروں کو حکم دیا کہ چلو بھئی دکان بڑھادو اب کہیں سیل
سپاٹے کو جائیں گے۔
سید ضمیر حسن دہلوی
No comments:
Post a Comment