Pages

Friday, 10 May 2013

دلی کے پرانے شہدے : سید ضمیرحسن دہلوی


دِلّی کے پرانے شہدے


ماہرین یادش بخیر۔کل کی بات ہے کہ دلی میں شادی کی وہ کون سی محفل تھی جہاں دلی کے پرانے شہدے نہ پہنچتے ہوں۔ نکاح ختم ہوتے ہی ان کے یہ بول محفل میں گونجنے لگتے تھے، ’’ الٰہی سازگاری ہو، محمد کا صدقہ ،الٰہی دولہا ست پوتا ہو،دولہا باوا کو پوتے پڑپوتے کھلانے نصیب ہوں۔ اللہ کرے، آمین، دلوائیے حضور سیدھے ہاتھ سے ہزار روپے اوردوشالہ ہم شہدوں کو۔ خدا حضور کو سلامت رکھے۔ خدا کا دیدار ہو، محمد کی شفاعت، سازگاری ہو، برخورداری ہو۔‘‘ اس کے بعد شہدے اور بھاٹ مل کریہ بول گاتے تھے۔’’ گوندھ لاری مالن پھولوں کا سہرا، آج بنا بنی کو مبارک ہو سہرا۔‘‘

اس وقت واقعی یہ محسوس ہوتا تھا کہ سچ مچ شادی کی محفل ہے اور سہرے کے پھول دولہا اور دلہن پر نچھاور ہورہے ہیں۔اس کے بعد وہ انعام مانگیں گے اور آپ کی مجال نہیں کہ انہیں باتوں میں ٹال سکیں۔سچ پوچھو تو یہ شہدے حقیقت میں منگلا مکھی تھے، ان کی صورتیں صرف خوشی یا شادی بیاہ کے موقع پر ہی دیکھنے کو ملتی تھیں۔ یہ نہ ہوتے توساری محفل سونی نظر آتی تھی، یہی شہدے برات کے ساتھ جہیز کی کھانچیاں اٹھوانے کا کام بھی کرتے تھے۔ یہی دلہن کا پلنگ یا چھپرکھٹ سجا سجو کر دولہا کے گھر لے جاتے تھے۔

دلی میں قدیم دور سے یہ رسم چلی آئی تھی کہ دلہن کا پلنگ صرف شہدے اٹھاتے تھے، ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکتا تھا۔ چونکہ عورتیں شادی کی پہلی رات کو تخت کی رات کہتی تھیں، ان شہدوں نے بھی اسی مناسبت سے اس پلنگ کو اپنی اصطلاح میں ڈھائی گھڑی کا تخت کہنا شروع کردیا۔ یہ شہدے اصل میں ہیں کون۔ کیوں کر ان کا یہ نام پڑا اور آئے کہاں سے۔یہ پلنگ اٹھانے کی رسم ان کے ساتھ کیونکر مخصوص ہوئی۔ اس کے تعلق سے سید احمد دہلوی نے اپنی تالیف’’ فرہنگ آصفیہ‘‘ میں لکھا ہے۔’’ایک فرقہ ہے جو اکثر ننگے پائوں اور ننگے سر رہتا ہے اور شادیوں میں دلہن کا پلنگ اٹھاتا ہے، جیسا یہ فرقہ گالی گلوچ میں مشہور ہے ویسا ہی دیانت دار بھی ہے۔ ادبی درجے کے شہدے وہ ہیں جو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے رہتے ہیں۔ شہدا ان کا نام دو وجہ سے مشہور ہوا۔ اول تو یہ کہ ان لوگوں کو بات بات پر نبی جی کی قسم کھانے کی عادت ہے، دوسری بات یہ ہے کہ شاید جھوٹی گواہی دینے سے بھی انکار نہیں ہوتا‘‘۔ خود شہدوں کا یہ کہنا ہے کہ تیمور بادشاہ جب کربلائے معلی گیا تو دیگر تبرکات کے علاوہ اسے وہ پلنگ مبارک بھی حاصل ہوا جو خاتون جنت بی بی فاطمہ ؓ کا تھا۔ تیمور نے یہ پلنگ ایسے لوگوں کے سپرد کیا جو سادات میں سے تھے اور شہدے کہلاتے تھے یا بعد میں کہلانے لگے۔وہ شہدے اس پلنگ کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ سروں پر رکھ کر تیمور کے ہمراہ ہندوستان لائے۔یہاں آکر جب یہ خدمت پوری ہوگئی تو تیمور نے حکم دیا کہ اب تم ڈھائی گھڑی کا تخت اٹھایا کرو۔ چنانچہ آج تک اسے شہدے ہی اٹھاتے ہیں۔ ممکن ہے خاتون جنت کا پلنگ لانے اور بعد ازاں ڈھائی گھڑی کا تخت اٹھانے کی یہ حکایت محض دلہنوں کا پلنگ اٹھانے کی رسم کو صرف اپنے سے منسوب کرنے کے لیے گھڑی گئی ہو، لیکن اس سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ فرقہ اس وقت کربلائے معلی میں موجود تھا اور وہیں سے ہندوستان آیا۔ کچھ عجب نہیں کہ تیمور ہی ان کو اپنے ساتھ لایا ہو۔ اصل میں شہدائے کربلا کے کچھ تبرکات تیمور ہندوستان لایا تھا۔ ان کو وہ ہمیشہ اپنے لشکر کے کجاووں میں رکھتا تھا۔اور جب کربلا کے ہوش ربا واقعات سنتا تو ان کجاووں کو بنظر احترام اپنے سامنے تختوں پر رکھولیتا تھا۔ تیمور نے ان کجاووں کو اٹھانے اور رکھنے کی رسم کی خدمت ان شہدوں کے سپرد کی تھی۔ بہرحال اس فرقے کے قدیم اور شاہی ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ سید وزیر حسن دہلوی نے ’’دلی کی آخری دیدار‘‘ میں لکھا ہے۔

’’قلعہ میں جونہی سواری صدر دروازے کنے آتی، امیر امراء پایہ چھوڑالگ ہوجاتے۔ توپیں دغتیں، زنبوریں چھوٹتیں، ساری فوج فرا سلامی اتارتی۔ شہدوں میں سے ایک آواز لگاتا ،الٰہی یہ سال ایک ہزار بار نصیب ہوں، باقی اس زور سے آمین کہتے کہ خاصّے کے گھوڑے بھی چمک اٹھتے۔بادشاہ سلامت بھر بھر مٹھیاں روپے، دو انّیاں، چوّنیاں پھینکتے، سواری رسان رسان آگے بڑھتی تھی۔‘‘ پھول والوں کی سیر کے موقع پر بادشاہ سلامت کی نقرئی پلنگڑی ان ہی شہدوں کے حوالے کی جاتی تھی ۔ وہ اسے لے کر مہرولی پہنچتے اور سیر کے بعد خود ہی واپس لاکر انعام پاتے تھے۔سرکار برطانیہ کی طرف سے بھی یہ انعام ایک مدت تک شہدوں کو ملتا رہا۔

قطب صاحب میں اولیاء مسجد کے قریب ایک شکستہ عمارت ’’ مقبرہ چہل تن چہل من‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ زیارت گاہِ خواص و عوام ہے۔ اس کے احاطے میں چالیس قبروں کے سوا کچھ نہیں۔ حاجی شہدے نے ان قبروں کے بارے میں بتایا کہ ’’ سب قبریں ان کے بزرگوں کی تھیں،ان بزرگوں کی محبتوں میں اس گنبد میں قریب نصف صدی پہلے چند شہدے رہتے تھے۔حاجی شہدے سب کے منڈ تھے،ان کا اصلی نام حبیب الرحمن تھا، حاجی ہونے کے سبب حاجی شہدے مشہور ہوگئے۔ان کے دادا جمّن جمعدار کو لال قلعے سے شہدوں کی جمعداری کا خلعت ملتا تھااور تنخواہ بھی مقرر تھی۔ شادی بیاہ کے علاوہ شہدے اکثر موقعوں پر رئیسوں اور نوابین کے مونڈتے کھاتے تھے۔پھول والوں کی سیر کے موقعہ پر مینا بازار کے کوٹھوں کے نیچے کھڑے ہوکر چیختے چلاتے اور انعام اینٹھتے تھے۔عید، بقر عید کے موقعوں پر قلعے کے امراء اور شہر کے نوابوں اور رئیسوں کے گھر جاتے اور تنخواہ وصول کرتے تھے۔جب ان رئیسوں کی عزت وآبرو یا جان کو خطرہ پیش آتا تو صحیح معنوں میںان کے حمایتی بن کر مددگار ثابت ہوتے اور ان کی خاطر اپنی جان لڑادیتے تھے۔ آمدنی کی کثرت اور فراوانی نے ایک طرف تو ان شہدوں اور ان کی عورتوں کو فکر معاش سے اس درجہ بے نیاز کردیا تھا کہ وہ صبح سے شام تک جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے رہتے تھے ۔سیڑھیاں چاٹ چاٹ کر اپنی دبی نعمت اور آقائوں کے حق میں دعائے ترقی عمر و دولت و اقبال کیا کرتے تھے،دوسری طرف ان بگڑے ہوئے رئیسوں اور ان کے آوارہ مزاج لڑکوں کو یہ موقع دیتے تھے کہ وہ آمدنی کی خاطر ان شہدوں میں آکر شامل ہوجاتے۔ان کے تمام رنگ ڈھنگ اختیار کرتے، ان کے شریک کار بن جاتے اور زندگی مزے سے گزارتے تھے۔

مشتاق عاشقی میں بے کیف ہے تقدس
جو عشق کے مزے ہیں سارے شہدپن میں ہیں

بعد غدر جب افراد شاہی میں سے بعض بد قسمت شہزادوں نے اپنے ہی نمک خواروں کے یہاں ڈیوڑھی پر رہ کر ایک مدت تک ان کی چلمیں بھری ہوںاور شہزادیوں نے گھروں میں ماما گیری کی ہو تو نوابوں اور رئیسوں کا شہدہ بن جانا کون سی دشوار بات تھی۔لہٰذالوگوں کا یہ کہنا کہ ان شہدوں میں بہت سے نوابوں اور رئیسوں کے لڑکے بھی شامل تھے ۔ واللہ اعلم۔


سید ضمیر حسن دہلوی

۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment