Pages

Friday, 10 May 2013

میرے زمانی کی دِلّی : سید ضمیر حسن دہلوی

میرے زمانے کی دِلّی 


دلی یوں تو بقول شخصے غدر سے پہلے ہی اجڑا نگر کہلانے لگی تھی اور غدر کے بعد اس کا رہا سہا جوبن بھی ختم ہوا۔ تاہم آزادی سے پہلے دلی میں ایسے بزرگوں کی ایک کھیپ موجود تھی جو اس شہر کے اگلے وقار کو آنکھوں میں بسائے اسے دوبارہ آباد کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ لوگ بھی میرے بچپن کی دلی کے ساتھ قصہ پارینہ ہوئے۔ اب بچا کیا ہے سوائے یادوں کی برات کے، جہاں تک میرا تعلق ہے، میں نے دلی شہر کی آبادی تو کیا اس کی کچھ پرچھائیاں سی دیکھی ہیں، جو کچھ دیکھا اور جو کچھ اگلے دلی والوں سے سنا ہے وہ میرا سرمایۂ حیات ہے۔ اس اوچھی پونجی پر میں یہ کہوں کہ میں نے دلی کی تہذیب رفتہ کا اس مضمون میں چرچا کیا ہے تو یہ مجھے زیب نہیں دیتا۔ میں کیا اور میری بساط کیا۔ ننگی کیا نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ البتہ جو کچھ سنی سنائی باتیں ہیں اور بزرگوں کی بیان کردہ تحریروں میں پڑھا ہے اس پر تکیہ کر کے ہرزہ گوئی کا قصوروار ٹھہرا ہوں۔

احباب میرے اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ تو دلی کی زبان بولتا ہے۔ لہجے میں کوثر و تسنیم کی روانی اور قند و نبات کی مٹھاس ہے۔ میں بھلا اس ضمن میں کیا عرض کروں۔ مشک آنست کہ خودببوید نہ کہ عطار بگوید۔ اسے الطاف رحمانی سے تعبیر کروں تو بجا ہے اور فیضان خاک پاکِ دہلی کا کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ میں نے جوتیاں ایسوں کی سیدھی کی ہیں جو طوطی صفت گویا ہوتے تو خلقت بنظرِ استحسان ہمہ تن گوش ہوجاتے تھے۔ بیرسٹر آصف علی، خواجہ حسن نظامی، آغا حیدر حسن دہلوی، اشرف صبوحی، ملا واحدی، مولانا احمد سعید اسیر دہلوی، شاہد احمد دہلوی، خواجہ محمد شفیع، لالہ مہیشور دیال، مرزا محمود بیگ اور بیرسٹر نورالدین احمد کے جو کلمات خوبیٔ تقدیر سے آویزۂ گوش ہوئے انہیں دل کے نہاں خانوں میں یوں سمولیا جیسے پھول کی پتیاں خوشبو کو سموتی ہیں یا ارگنوں کے پردے میں موسیقی کے سر سما جاتے ہیں۔

امریکہ کے کسی شہر کی فلک بوس عمارتوں کو دیکھ کر ایک دانشور نے کہا تھا کہ ان عمارتوں کے مکین آسمان کی سرگوشیاں تو سن لیتے ہیں، مگر پیرس اور لندن میں رہنے والوں کے برعکس ان کا رشتہ زمین کے ساتھ استوار نہیں ہے۔ اساطیر، روایات اور تہذیب کا لوگوں کی زندگی میں وہی درجہ ہے جو فرد کی زندگی میں حافظے کا ہوتا ہے۔ حافظہ باطل ہوا تو انسان صرف چوپایہ ہو کر رہ جائے گا۔ بظاہر یادوں کا عمل بے معنی اور بے سود دکھائی دیتا ہے۔ کچھ لوگ تو اسے مریضانہ انداز فکر سے تعبیر کرتے ہیں مگر اس شغل کی معنویت کا طلسم ان پر کھلتا ہے جو احساس کی دولت سے مالا مال ہیں۔ یادیں ہماری شخصیت کی بنیاد ہیں۔ یادیں نہ ہوں تو ماضی نہیں رہتا اور ماضی بغیر حال کی اہمیت ایک غیر مشخص غبار سے مطلق زیادہ نہیں ہے۔

غدر اس اعتبار سے تو ایک اہم واقعہ ہے کہ اس نے مغلوں کے سیاسی اقتدار کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور قلعہ والوں کی زندگی کا نقش دلی والوں کے دلوں پر اتنا گہرا تھا کہ فرنگی راج اسے مندمل نہ کرسکا۔ دلی کے امراء اور رؤساء ہنگامے کے دوران تو دلی چھوڑ کر ادھر ادھر نکل گئے، لیکن امی جمی ہوتے ہی لوٹنے لگے۔ دہائیوں کے بعد دلی والے واپس شہر میں آئے تو ان کے ساتھ باہر والے بھی جوق در جوق یہاں آکر آباد ہوگئے۔ باہر والوں کو دلی ہمیشہ راس آتی رہی۔ ہماری دادی پردادی کہتی تھیں کہ دلی یہاں والوں کی بیوی ہے اور باہر والوں کی ماں۔ پوچھا کیوں تو بتایا کہ بیوی کی نگاہ شوہر کی جیب پر رہتی ہے اور ماں کی نگاہ اولاد کے پیٹ پر رہتی ہے۔ میرے بچپن میںدلی کی آبادی قریب قریب دس لاکھ ہوگی۔ ان میں یقینا باہر والوں کی اکثریت تھی، لیکن تہذیب کی کمان دلی کے پرانے رئیسوں کے ہاتھ میں تھی۔ کرخندار بھی جو کچھ سیکھتے تھے قلعہ والوں یا رئیسوں سے سیکھتے تھے، البتہ بعد میں ان کے اپنے مزاج کا رنگ غالب آجاتا تھا۔ بے چارے کرخنداروں پر فرنگی عہد میں بڑی لعن طعن کی جاتی تھی۔ کوئی ان کے رہن سہن کا مذاق اڑا تا تھا کوئی ان کی بولی ٹھولی پر ناک بھوں چڑھاتا تھا، مگر واقعہ یہ ہے کہ کرخندار بڑے غیور اور لمبی ناک والے تھے۔ غدر کے بعد جب انگریزوں نے دلی میں عوام اور کاریگروں کو سیاسی مصلحت کے تحت رجھانے اور مراعات سے نوازنے کی کوشش کی تو انہی کارخانے داروں نے ان مراعات کو ٹھکرا کر اپنے دست و بازو پر زندہ رہنے کا فیصلہ کیا۔ امراء قلعے کی روایات کو اپنے دیوان خانوں میں سنبھالے بیٹھے رہے اور عوام نے چھوٹے موٹے پیشے اپنا کر دست کاری کے ذریعہ روزی کمانے کا سامان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دلی میں انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا رواج بہت دیر سے ہوا۔ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو یہ کاریگری، دست کاریاں، گھریلو صنعتیں بھی تعلیم ہی کے ایک شق ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تعلیم صرف ذہنی جمناسٹک کا نام نہیں ہے۔ انگلیوں اور ہاتھوں پر دکھائے گئے کمالات بھی تعلیم کے زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں۔ دلی والے مدت تک غدر سے پہلے کی دلی کو یاد کر کے آنسو بہاتے رہے اور جیتے جی مغلیہ روایات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ سچ پوچھیے تو یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ البتہ زمانے کی افرا تفری اور بیرونی مداخلت نے اسے کچھ کا کچھ کردیا ہے۔

نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے
کبھی روئے کبھی سجدے کیے شاخِ نشیمن پر

دوسری جنگ عظیم کے بعد دلی میں تعلیم بھی عام ہوگئی تھی، یہاں تک کہ عورتوں میں بھی حصول تعلیم کا رجحان بڑھا تھا۔ چنانچہ گھاس کی منڈی، دریا گنج، کشمیری دروازے کے پاس لڑکیوں کے اسکول بھی کھولے گئے تھے۔ ان اسکولوں میں میٹرک تک تعلیم کا انتظام تھا۔ نئی روشنی گھروں میں پہنچ رہی تھی۔ پردہ باغ میں مینا بازار لگتا تھا، اس میں یوں تو دلی کی قابل ذکر خواتین باقاعدگی سے شرکت کرتی تھیں، مگر اس وقت کی روح رواں مسز آصف علی تھیں۔ آصف علی کی پرانے طرز کی عالیشان حویلی میں رہ کر ارونا آصف علی نے خود کو دلی والوں کے رنگ میں رنگ لیا تھا۔ آصف علی کی والدہ کی طرح رقیہ سلطان، غالب کی رشتے دار حمیدہ سلطان اور فخرالدین علی احمد کی والدہ خود اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں۔ ان خواتین کا گھرانہ دلی کی تہذیب کا آئینہ دار تھا۔ ان کا لباس، بول چال، رہن سہن سب دلی والوں کا تھا، حالانکہ ان کے شوہر آسام کے رہنے والے تھے۔ میٹھی سریلی آواز، مخاطب کرنے کا پیار بھرا انداز، خاطر مدارات میں نمائش کی جگہ خلوص، ہر چیز اس صدیوں پرانی تہذیب میں رچی بسی جو ان کو ورثے میں ملی تھی۔

سید ضمیر حسن دہلوی

No comments:

Post a Comment