بوا صداقت زمانی
بواصداقت زمانی سے ہمارا دور پرے کا رشتہ ہے۔ اس لیے مجھے
گاہ بگاہ ان کے یہاں جانا ہوتا ہے۔ وہ بھی میری بڑی مداح ہیں۔ مجھے گئے ہوئے کچھ دن
ہوجائیں تو ان کے تقاضے آنے لگتے ہیں، صداقت بوا لاکھ نیکوں کی نیک سہی مگر انہیں
اپنی قوم سے اللہ واسطے کا بیر ہے اور سب سے زیادہ عزیز آج کل والیوں کا رونا ہے۔
میں بھی ان کی رگ رگ سے واقف ہوں، جب کبھی ان کی شعلہ بیانیوں سے لطف اندوز ہونے کو
جی چاہتا ہے تو بھس میں چنگاری ڈال دیتا ہوں۔ دادی اب تو لڑکیوں نے بڑی ترقی کرلی ہے
ہزاروں لاکھوں کالجوں میں پڑھتی ہیں۔ ہر کام میں مردوں سے آگے ہیں۔ میں تو اتنا کہہ
کر چپ ہوا اور وہ آئیں تو جائیں کہاں۔ نا بیٹا ہمارے زمانے میں تو لڑکیوں کا گھر سے
نکلنا عیب سمجھا جاتا تھا۔ ہم کیا جانیں موئے لڑکوں کے ساتھ ہش گڈی کرتے پھرنا۔ پھر
نوکری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا جوتیاں چٹخاتے پھرنا، پہلے تو ادھر میٹھا برس
لگا اور ادھر ماں باپ نے ادھی پاؤلی کا مزدور دیکھ ہاتھ پیلے کردئے۔ لو جی لڑکی پرائے
گھر کی ہوگئی نہ باسی بچے نہ کتا کھائے۔ نوج جو ہمیں کمانا پڑتا۔ ہمارے میاں، اللہ
ان کی قبر کو ٹھنڈا رکھے، کہتے تھے کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھار
میں نے وقت گزارنے کو دو ٹکے کی مزدوری کے لیے گجائی بھی لپیٹی تو انہوں نے سینکڑوں
صلواتیں سنائیں۔ میں کہتی تھی خالی سے بیگار بھلی مگر وہ طنطنا جاتے اور ایسے ہنکارتے
کہ سارا محلہ سر پر اٹھا لیتے تھے۔ وہ جو مثل ہے نا کہ خدا کی طرف سے شکر خورے کو شکر
اور موذی کو ٹکر تو ہمیں کبھی پیسے کوڑی کی تکلیف بھی نہیں ہوئی۔ جب تک وہ رہے خدا
انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، بیگموں کی طرح راج کیا۔ صبح اٹھے خزان حلوائی کے ہاں
سے دونا بھرا حلوہ اور پوڑی لے آئے۔ دونوں نے ناشتہ کرلیا۔ چائے وائے کا ان دنوں رواج
نہیں تھا۔ موئے انگریز مفت بانٹتے تھے مگر لوگوں نے پڑیالی اور نالی میں الٹ دی۔ ائے
ہاں کون پیتا کڑوا کسیلا جوشاندہ اب دیکھو تو کوئی چائے بغیر ہلتا ہی نہیں، کہتے ہیں
چائے میں پوست کا تلچھٹ ملا ہوتا ہے۔ اللہ جانے سچ یا جھوٹ۔ ناشتہ کرکے میاں تو اپنے
کام پر چلے جاتے تھے اور میرے پاس آنے جانے والوں کا تانتا بندھ جاتا تھا۔ ذرا دیر
میں اچھی خاصی محفل ہوجاتی تھی۔ پٹاری کی چوکی گھسیٹ بیچ میں رکھی سب نے کلے تازے کیے
اور بھئی باتیں شروع ہوگئیں۔ جھاڑو بہارو پکانے ریندھنے کے لیے ماما ملازم تھی۔ گھر
کی بیگم کو ہاتھ ہلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس باتوں باتوں میں دن ڈھل جاتا تھا۔ بھلا
ہم کیا جانیں بازار والیوں کی طرح مارے مارے پھرنا۔ آج کل والیوں کے تو ہدڑے گئے ہیں۔
پیروں میں بلیاں بندھی ہیں۔ میرے تو دیکھ دیکھ کے ہوش اڑتے ہیں۔ یا اللہ عورتیں کیا
ہوئیں خوش بختیاں تماشا ہوگئیں جو برقعے والیاں ہیں وہ صبح سے شام تک برقعے پھڑکاتے
پھرتی ہیں، جنہوں نے اتار دئے انہیں تو خیر روک بھی کون سکتا ہے۔ موئی پچھل پائیاں،
خدا کا خوف نہ دنیا کی شرم۔
میں پہلے تو خاموش بیٹھا مٹر مٹر سنتا رہا پھر آہستہ سے
شرّا چھوڑا۔ کیا کیا جائے دادی مرد بھی تو تمہارے وقتوں کے نہیں۔ انہوں نے ساری ذمے
داری عورتوں پر ڈال دی۔ میری حمایت پر ان کا جوش و خروش دو بالا ہوگیا۔ تلملا کر بولیں،
بہن جی مرد بیچاروں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ انہیں تو یہ کالے سر والیاں جس طرح چاہیں
نچالیں۔ پر ذرا شرما کے کہتیں۔ اللہ بخشے ان کی حیات میں جب کسی بات پر اڑ جاتی تھی
تو اسے پورا کرا کر ہی چھوڑتی تھی۔ وہ کھسیانے ہو کر کہتے تم تو جھاڑ کا کانٹا بن گئی
ہو، اچھا جو چاہو کرو، تم جیسی موٹی عقل والی سے کون بحثے۔ مثل مشہور ہے عورت کی عقل
پاؤں کی ایڑی میں ہوتی ہے۔ چلتے چلتے گھسی اور برابر ہوئی بٹیا تیری تو خیر عمر ہی
کیا ہے۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے تجھے پیدا ہوئے لوگ مرتے مر گئے، عورت کی ذات کو نہ
سمجھنا تھا نہ سمجھے مثل مشہور ہے عورت کے سر میں جتنے بال اس سے زیادہ اس میں چلتر
ہوتے ہیں۔
اس بندی کی عجیب خصلت ہے، نہ اس کل چین نہ اس کل چین وہ
جو کہتے ہیں کہ گیڈر کی شامت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے۔ میں پوچھتی ہوں اس خیلاخبطن
پر کیا مصیبت پڑی تھی جو اچھا خاصا گھر چھوڑ نگوڑی ناٹی سڑکوں پر دھول پھانکنے نکل
پڑی۔ سوٹہل کرتی ہے جب دو روٹیاں میسر آتی ہیں۔ آگ لگے ایسی کمائی کو۔ عزت آبرو
سب ملیامیٹ کردی اور بھئی دیکھنا آرام کے تو سب رسیا ہیں مردوں نے جو دیکھا کہ اس
عقل کی اندھی نے ہمارا جوا اپنے کاندھوں پر رکھ لیا تو ہاتھ جھاڑ الگ ہوگئے۔ لو جی
اب کماؤ بھی تم، میاں کی خدمت بھی کرو، بچوں کو پالو اور سارے کنبے کی ٹلے نویسی سو
الگ۔ عورت بے وقوف خوش ہے کہ آزادی مل گئی۔ میں کہتی ہوں اس آزادی سے تو غلامی ہزار
درجہ اچھی تھی، بھٹ پڑے وہ سونا جس سے چھدیں کان۔ میں تو سچی بات کہوںگی۔ چراغ سحری
ہوں، گور گڑھا سامنے نظر آتا ہے جوانی میں تو خیر جو چاہا کیا، مگر اب سفید چونڈھے
پر جھوٹ نہیں بولا جاتا۔ آخر اللہ کے پاس بھی تو جانا ہے۔ مرد بے چاروں نے کیا نہیں
کیا۔ خود بعد میں کھایا ان نیک بختوں کو پہلے کھلایا، ہزار طرح کے عیش کرائے، لونڈی
باندی انا چھو چھو اور غلام پیچھے پیچھے پھر ائے کپڑا لتا، گہنا پاتا گھر بیٹھے حاضر،
زربفت، زری اطلسی، کمخواب، تاش، تمامی سونا چاندی ہیرے جواہرات کون سی چیز تھی جو اسے
میسر نہیں آئی۔ آٹھ آٹھ گزے غرارے، جہاز کے جہاز، گہنے کا یہ عالم کہ سونے میں لدی
پڑی ہیں۔ گلے میں مالا گلوبند، مگر چودانیاں، ہنسلی ماتھے پہ جھومر، ٹیکہ اور د س دس
طرح کے زیور مجھے تواللہ کی سنوار نام بھی لینے نہیں آتے، اس پر بھی یہ آفت زادیاں
مردوں کو برا کہتی ہیں۔ ان کے دئے کا پاپ نہ پن سچ ہے گدھے کی آنکھوں میں نون دیا
گدھا کہے میرے دیدے پھوٹے۔ غیرت دار ہوں تو مردوں کے پیر دھو دھو کر پئیں۔ جاؤ میں
کہتی ہوں کہ جو مزے مردوں کے بل بوتے پر کرلیے، وہ بھلا نصیب تو ہوجائیں اب انہیں آخر
اللہ رسول نے جو مرد کو حاکم بنایا ہے تو کیا نعوذ باللہ غلط بنایا ہے، جس نے نہ لی
بڑوں کی سیکھ اس نے مانگی در در بھیک۔
اب دیکھ لو۔ اس خانہ خراب آزادی نے کچھ ہی دنوں میں کیا
حال بنایا ہے۔ گاڑھے گزی کی کرتیاں اور وہ بھی کم بخت بندریوں کی سی سرنگی کے غلاف،
شلواریں ہیں تو وہ اچکواں آزادی سے بیٹھنے دیں نہ اٹھنے دیں، پھر کپڑوں پر نہ پیمک
نہ گوٹا نہ ٹھپا نہ مالا، نہ گجائی نہ مقیش۔ موئی ڈیڑھ ڈیڑھ گز کی اوڑھنیاں گلے میں
پھانسی کے پھندے کی طرح پڑی ہیں۔ نہ سینہ ڈھکے نہ سر۔ غیرت تو خدا جانے کہاں بیچ کھائی
ایک سے ایک زیادہ چالاک، ترت پھرت، نا بھئی نا اللہ معاف کرے ہمارے زمانے میں ایسی
بے غیرتیں ہوتیں تو دیوار میں چنوائی جائیں۔ میرا تو دیکھ دیکھ کے کلیجہ خاک ہوتا ہے
روز روز نت نئے سوانگ نت نئے فیشن۔ کبھی دیکھو تو کانوں میں بڑے بڑے سپیروں کے سے بالے،
ہاتھوں میں موٹی موٹی سادی چوڑیاں اور کبھی ہاتھ بھی خالی، کان بھی خالی۔ لوٹھا کی
لوٹھا مرد بنی پھر رہی ہیں۔ کپڑے پہنیں تو آج کے کل بے کار، کبھی اتنے ڈھیلے کہ ایک
میں چار سما جائیں، بھوسی ٹکڑے والیوں کی جھولیاں اور کبھی کسے تو ایسے کہ گاؤ تکیہ
کے غلاف بنا دئے اب ایک پہنے تو دوسرا پہنائے۔ چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا سب مشکل ہوجائے۔
سونے چاندی گہنے پاتے کا انہیں شوق نہیں گھی
گرگیا تو ابالی بھانے لگی۔ خیر جی ابھی تو نہ جانے کیا کیا دیکھنا پرے گا۔ قرب قیامت
ہے۔ پرانی آنکھیں نیا زمانہ، ان نینوں کا یہی بسیکھ وہ بھی دیکھا یہ بھی دیکھ۔
میں نے کہا دادی تم تو عورتوں کے خلاف بھری بیٹھی ہو، مردوں
کے ظلم زیادتی کا کچھ ذکر ہی نہیں۔ ظلم کے خلاف عورت نے بالآخر بغاوت کردی۔ ’’ہوں‘‘
کہہ کر انہوں نے میری بات ہوا میں اڑا دی۔ کیا بغاوت و غاوت کچھ نہیں عورت کی ذات ہی
ایسی ہے کہ سونے کا نوالہ بھی کھلاؤ تو بھی اپنی نہیں۔ اس پر احسان کرنا سانپ کو پالنا ہے۔ جندری ایسی
بے چین کہ جنت میں ہمارے تو کل نہ آئے گی۔ اس آفت کی پرکالہ نے ہزارہا فتنے بپا کیے
اور پھر ہے کہ معصوم کی معصوم۔ وہ تو یہ کہو کہ مردوں کی عقل پر پتھر پڑے ہیں جو آج
تک اس کی فطرت کو نہ سمجھے اگر سمجھ جائیں تو قسم کھا کر کہتی ہوں، اس کی طرف مڑ کر
بھی نہ دیکھیں تم تو ماشاء اللہ پڑھے لکھے ہو تم نے سنسکرت کا یہ شلوک بھی ضرور سنا
ہوگا۔
استری چریترم پرششِ بھاگیم دیو و نہ جانا تی کتومنش۔
سید ضمیر حسن دہلوی
No comments:
Post a Comment