Pages

Friday, 10 May 2013

دلی کے دکاندار : سید ضمیرحسن دہلوی


دِلّی کے دکاندار


دلّی کے دکانداروں کی بھی عجیب شان تھی۔ صبح نو دس بجے تو گھر سے نکل کر دکان جاتے تھے۔ ذرا دوپہر ہوئی اور سورج نے سر اٹھایا تو انہوں نے نوکر سے کہہ کے پردے چھڑوا دیے۔ سفید براق چاندنی پر گاؤ تکیہ اور بغلی تکیہ لگائے مزے سے بیٹھے رہے۔ جو کوئی اللہ کا بندہ ان کی روزی کا فرشتہ بن کر آتا اسے بٹ لیتے تھے۔ یہ نہیں کہ آتے جاتے لوگوں کو بیسواؤں کی طرح اشاروں سے بلا رہے ہیں۔ پڑوسی دکانداروں کی ٹوہ میں لگے بیٹھے ہیں۔ یہی کوشش کرتے ہیں کہ بس ایک میں رہ جاؤں اور ساری دنیا سے دکانداروں کا اوڑا پھر جائے۔ توبہ توبہ انہی باتوں سے آدمی خوار ہوتا ہے۔ انسانیت سے گر جاتا ہے۔ ہاؤ ہاؤ جو کرموں لکھا سو پاؤ۔ فصیل کے اندر جو دکاندار تھے، خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ بڑے سیر چشم تھے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے یاں تک سنا ہے کہ جب ان کی بھرت پوری ہو جاتی تھی تو گاہک کو پڑوس میں بھیج دیتے تھے۔ اول تو جہاں گلّے میں دال روٹی کے پیسے آئے اور انہوں نے نوکروں کو حکم دیا کہ چلو بھئی دکان بڑھا دو اب کہیں سیل سپاٹے کو جائیں گے۔

دلی میں تجار کو بڑی کم نگاہی سے دیکھا جاتا تھا۔ اس لیے نہیں کہ ان سے خدا واسطے کا بیر تھا بلکہ اس لیے کہ بیچارے رات دن ننانوے کے پھیر میں پڑے رہتے ہیں۔ صبح اٹھے اور چابیاں لے کر دکان کو سدھارے، شام کو آ کے گھر میں پڑ رہے۔ دلی والے جو اپنے تئیں فخر سے دلی والا کہتے تھے وہ کئی کئی گھڑیاں دیوان خانوں میں گزارتے تھے۔ ادھر ادھر کی گپیں ہانکتے، جب زبان خراد پر چڑھتی تھی اور دماغ یوں پرواز کرنے لگتا تھا جیسے معجون فلک سیر کھاتے ہوں۔

دلی کے ہر گھر میں ڈیوڑھی کے ساتھ دیوان خانہ یا بیٹھک ہوتی تھی۔ شام پڑے احباب یہاں جمع ہو جاتے اور دیر تک باتیں کیا کرتے تھے۔ باہر والوں کو جب دلی پر تنقید کرنی مقصود ہوتی ہے تو ناک چڑھا کر کہتے ہیں میاں انہیں مرچیں کھانے اور باتیں بنانے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے۔ چلئے اگر ہم صرف اتنا ہی مان لیں تو بھی یہ ہنر کیا کم ہیں۔ مرچ مسالوں سے وہ چٹپٹی چیزیں ایجاد کی ہیں کہ ان کا ذکر کیجئے تو منہ میں پانی آتا ہے۔ باہر والے الوداع کی نماز پڑھنے دلی آتے ہیں تو سینکڑوں روپے چاٹ جاتے ہیں۔ ایک نہاری کو ہی لے لیجئے، جس کے منہ لگتی ہے پھر نہیں چھوٹتی۔ بامن کی لڑکی کھائے تو کلمہ پڑھنے کو تیار ہو جائے۔ خدا غریقِ رحمت کرے چچا کبابی کو۔ جامع مسجد کے نیچے شمالی دروازے کی جانب بیٹھتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ان کے پاس وہ مسالے ہیں کہ کھڑنے بجار پر لتھیڑ دیں تو گل کے گر پڑے۔

یہ تو رہی مرچیں کھانے کی بات۔ اب ذرا باتیں بنانے کا بھی ذکر ہو جائے۔ کون ہے جو ان کے سامنے زبان دانی کا دعویٰ کرے اور خجالت سے پانی نہ بھرے۔ جن بزرگوں نے کل تک میر باقر علی داستان گو کی زبانی قصے سنے ہوں گے وہ آج تک ان کی باتوں کا مزا لیتے ہیں۔ خدا کرے بزرگوں کی روح نہ شرمائے۔ وہ گالیاں دیتے تھے تو سننے والوں کو جھاڑی بوٹی کے بیروں کا مزا آتا تھا۔

جو لوگ دہلوی تہذیب کی رسی کو دانتوں سے پکڑے رہے ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ فلک تفرقہ پرداز نے وہ تاک کے پتھر مارا کہ دلی شہر کے آثار تک نیست و نابود کردیے۔ اب لوگ جسے دلی پکارتے ہیں وہ ایک اجڑا دیار ہے۔ حویلیاں، چھتے، ڈیوڑھیاں، درو دیوار، طاق محرابیں سب دیکھتے دیکھتے دکانوں اور گوداموں کے جنگل میں بدل گئیں۔ جدھر نگاہ اٹھتی ہے پانچ چھ منزلہ مکان بنے دکھائی دیتے ہیں۔ نیچے بڑی بڑی مارکٹیں ہیں۔ زمین کھود کھود کر گودام نکالے گئے ہیں۔ دنیا کی چیزیں ان گوداموں میں بھری پڑی ہیں۔ اور خلقت کا اژدہام، خدائی خوار یوں مارا مارا پھرتا ہے جیسے کہیں سے ٹڈی دل نکل پڑا ہو۔ بھلے آدمی کو دیکھے سے وحشت ہوتی ہے۔ ایسے میں بس اپنا گھر بھلا اور آپ۔ جو لوگ میری طرح ہوسِ دنیا سے بھر پائے وہ گوشۂ عافیت میں پڑے رہتے ہیں اللہ اللہ خیر صلّا نہ دلی کا یہ حالِ خراب دیکھیں گے نہ آنکھوں سے لہو کی دھاریں بہیں گی۔

میاں اب یہ شہر غالب کے زمانے کا کیمپ اور چھاؤنی بھی نہیں۔ خدا آباد رکھے منڈی بن گیا ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پورے ایشیا میں یہاں کے بیوپاریوں نے تجارت کا میدان مارا ہے۔ کروڑوں روپے کی روز لوٹ پھیر ہوتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ہاتھی مرے پیچھے بھی سوالا کھ کا ہوتا ہے، وہ اب دلی کا حال ہے۔ کبھی یہ بین الاقوامی شہر تھا، سیاح، فن کار، ہنر مند چار کھونٹ سے یہاں آتے تھے اور اپنے کمالات کی داد پاتے تھے، اب وہ اہل علم اور اہل کمال نہیں آتے یا کم آتے ہیں تو ان کی جگہ ہزاری بزاری کاروباریوں نے لے لی ہے۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں۔

قدیم دلی والے ہمیشہ کے خوش دل، خوش اطوار، خوش طبع، خوش کلام ہوتے تھے۔ انہوں نے سدا درویشانہ زندگی اختیار کی۔ ان کی نظر میں معاشی پستی اور بلندی کے کوئی معنی نہ تھے۔ انہوں نے مال کے بجائے کھال میں مست رہنا سیکھا تھا۔ دلی والا مفلسی اور ناداری کے نام سے بھی آشنا نہ تھا۔ ان کی شانِ استغنا نے انہیں ہمیشہ ہی تونگر رکھا۔ ادھی پاؤلی کے مزدور نے بھی یہاں کسی سے بات کی تو دیو جانس کلبی کا سا تیکھا پن دکھایا۔ دلی والوں کی نازک مزاجی اور بے نیازی ہمیشہ ضرب المثل بنی رہی۔ وہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ سچ ہے جب کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا، جاہ و مال کی ہوس نہیں تو پھر للّو چپو کرنے سے کیا فائدہ۔ یہاں کے لوگ اپنے اپنے فن میں طاق، عدیم المثال اور مزاج دار ایسے ہوتے تھے کہ اگر آپ انہیں قارون کا خزانہ بھی دیں تو آپ کی چاکری نہ کریں۔ ان کے پاس فن تھا، اس کے بل پر معاش کرتے تھے۔ کسی کی غلامی کرکے آقا کی ناک بھوں دیکھنا انہیں گوارا نہ تھا۔

دلی کے حکیموں کا ذکر نہیں کیا تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔ حکیم جمیل کے ہاتھ سے ہندوستانی دواخانے کا انتظام چھینا گیا تو انہوں نے شریف منزل میں گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ والدہ کا انتقال ہوا تو بھی دروازے تک ہی کندھا دینے آئے۔ بددل ہو کر وطن مالوف سے کوچ کیا۔ دیارِ غیر میں زندگی کے بقیہ دن کاٹنے پر آمادہ ہوگئے۔ اللہ اللہ یا تو دلی والوں سے، دلی کی گلیاں نہ چھوٹتی تھیں یا وہ انقلاب آئے کہ جان و تن میں جدائی ہوگئی۔ حکیموں کے دلی پر بہت احسانات ہیں۔ مدتوں پہلے جب نزلے بخار کی وبا پھیلی تھی تو حکیم اجمل خاں نے چوراہوں پر جوشاندے کے پتیلے چڑھوا دیے تھے۔ مفت علاج کیا جاتا تھا۔ یا تو منٹ منٹ پر لہلہاتی لاشیں جا رہی تھیں یا اللہ کے حکم سے خیر عافیت ہوگئی۔ اس خاندان کے ہاتھ میں شفا تھی۔ نباض ایسے ایسے گزرے ہیں کہ سنا ہے کسی من چلے نے آزمائش کے لیے بھینس کی ٹانگ میں تاگا باندھ پردے کے پیچھے سے اس کا دوسرا سرا حکیم محمد احمد کو تھما دیا۔ حکیم صاحب نے بھوسی ٹکڑے اور کھل بنولے کا نسخہ لکھ دیا۔ بڑے بڑے راجہ نوابوں نے ان کے بل پر عیش و عشرت کی زندگی گزاری، سینکڑوں عورتوں کے حرم رکھے، لاکھوں کے نذرانے حکیم صاحب کو دیے، اراضی حق خدمت میں پیش کی۔ غریبوں کا علاج مفت کیا جاتا تھا۔ بٹوارے سے پہلے بلیماروں میں ان حکیموں کے دروازے پر بھیڑ لگی رہتی تھی۔ حکیم صاحب کو مطب سے لے کر جب ایک حکیم چلتا تھا تو پیچھے ضرورت مندوں کی بھیڑ ہوتی تھی۔ موٹریں قطار در قطار چلا کرتی تھیں۔ انہوں نے خاک بھی پڑیا میں باندھ کر دیدی تو اللہ تعالیٰ شفا عطا کرتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی حکیم عاقل خاں اور حکیم عبدالرحیم کی زندگی میں علاج کا سلسلہ قائم رہا۔ اب یہ لوگ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔

ہمدرد دواخانے کے بانی حکیم عبدالحمید کو تو آج کل والوں نے بھی دیکھا ہوگا۔ اکیلی ذات پر مجیدیا ہسپتال، میڈیکل کالج، فارمیسی تعلیم کا ادارہ، ہمدرد اسکول اور متعدد دوسرے ادارے قائم کرکے دنیا سے سدھارے ہیں۔ آخری دم تک محنت مشقت اور خلق خدا کی خدمت ان کا شعار رہا، اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، پورا ایک شہر ہمدرد نگر آباد کر گئے ہیں۔ دلی والوں کو چاہیے رات دن دعائیں دے کر ان کا حق ادا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

سید ضمیر حسن دہلوی

No comments:

Post a Comment