دلی کی زبان
زبان کاکہناہے کہ سیکھنے کا سلسلہ ماں کے پیٹ سے شروع ہوجاتا
ہے۔جینزکے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ جو زبان ہم بولتے ہیں اس کی ابتدائی مشق پیدا ہونے
سے پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے کہاجاتا ہے کہ انسان اپنی مادری زبان میں
جو تحصیل علم کرسکتاہے وہ دوسری زبان میں نہیں کرسکتا۔تعلیم کےماہرین نے ہمیشہ مادری
زبان کی تعلیم پر زور دیا ہے۔ مختلف جگہوں کی زبان اور لب ولہجے میں جو فرق پایاجاتا
ہے وہ بھی شاید اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم سب کی پیدائش کے مقامات بھی جداجدا ہیں۔ بعد
میں ماحول اور معاشرے کے اثرات بھی زبان پر پڑتے ہیں اور زبان کے فروغ کے لئے یہ ضروری
ہے کہ وہ عوام تک ضرور رسائی حاصل کرے۔ جو زبانیں محض خواص کے دائرۂ عمل میں رہتی
ہیں وہ فنا ہوجاتی ہیں۔ اردو نے جو مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی اس کی سب سے بڑی وجہ
یہ ہے کہ عوام کے زیرسایہ پلی بڑھی۔ دلی میں یہ صورت مزید تقویت حاصل کرگئی کیونکہ
یہاں قلعہ معلیٰ کی زبان جامع مسجد کی سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی گلی محلوں تک پہنچی اوراس
نے عوام الناس میں فروغ پایا۔ اس زبان کو فروغ دینے میں ارزل واسفل طبقے کا بھی بڑ
ا معنی خیز کردار رہاہے۔ دلی کے کرخنداروں کا ذکر پہلے کیاجاچکاہے انہوں نے اپنی ضرورت
کے تحت زبان کو گھس پیٹ کراپنے لب ولہجے میں رچا بچا لیا تھا۔ اب ذرا دیکھئے کہ دلی
کی بیگمات سے زبان کس طرح مہترانیوں تک پہنچی اوران کے لب و لہجے میں نکھار اور کھنک
پیرا کرتی رہی۔ دلی کے بڑے بڑے زبان دانوں نے روزمرہ اورمحاورات مہترانیوں کی گفتگو
سے سیکھے تھے۔ خواجہ حسن نظامی میرناصرعلی صلائے عام والے، راشدالخیری، قاری سرفراز
حسین، ڈپٹی نذیراحمد کے پوتے شاہد احمد دہلوی وغیرہ نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔
اس سلسلے کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے جسے سیداحمددہلوی نے اپنے مضامین میں نقل کیا ہے۔
ڈاکٹرنیلن جس کی انگریزی اردو ڈکشنری مشہور ہے، اس گھمنڈمیں
تھے کہ انہیں اہل زبان سے زیادہ اردو آگئی ہے۔ سیداحمددہلوی فرہنگ آصفیہ والوں نے
صاحب کو بتایا کہ دلی شرفا کاتو ذکر ہی کیا ہے۔ آپ چھوٹی امت جتنی بھی اردو نہیں جانتے۔
نیلن صاحب ان کی یہ بات سن کر سرخ ہوگئے بولے آپ میرا امتحان لیجئے۔اتنےمیں ایک مہترانی
اپنا ٹھیکرا اٹھائے سامنےسے گزری، سیدصاحب نے کہا ذرا اسی سے بات کرلیجئے۔ ہاتھ کنگن
کو آرسی کیاہے۔ صاحب نے کہابلاؤا سے۔ سیدصاحب نے مہترانی کو آواز دی۔ اے بواذرا
یہاں آنا، صاحب تم سے کچھ بات کرنی چاہتے ہیں۔ مہترانی نے آکر کہا’فرمائیے کیا بات
کرنی چاہتے ہیں۔‘ صاحب نے کہا ’تم ہم سے کچھ پوچھو۔ وہ سٹپٹائی کہ یہ گورا آخر چاہتاکیا
ہے۔ کہیں سٹھیا تونہیں گیا ہوا۔ سیدصاحب نے کہا تم ان سے کسی محاورے کے معنی پوچھو۔
مہترانی نے کہا’اچھا تو میں اس ٹوکرے کو کیک مرڈلاؤ پر ڈال آؤں پھر پوچھوں گی صاحب
بغلیں جھانکتے رہ جائیں گے۔ ڈاکٹر نیلن کے کان کھڑے ہوئے کہ مہترانی ایک ہی فقرے میں
دوباتیں ایسی کہہ گئی جو مجھے معلوم نہیں ہیں۔ مولوی صاحب سے پوچھا کیوں مولوی صاحب
ڈلاؤ کسے کہتے ہیں۔ اور بغلیں جھانکنا کیا ہوتا ہے۔ سیدصاحب نے کہا تیل دیکھئے تیل
کی دھار دیکھئے ابھی دیکھتے ہیں وہ واپس آکر کیا پوچھتی ہے۔ اتنے میں مہترانی واپس
آگئی بولی ہاں صاحب بہادربتاؤ آگن کے بچے کھجوروں میں کا کیا مطلب ہے۔ صاحب واقعی
بغلیں جھانکنے لگے مہترانی نے کہا بس ہوگئی ترکی تمام۔ پھٹے سے منہ صاحب کا سارا علم
دھرا رہ گیا۔ اپنا سامنہ لے کر رہ گئے۔ مہترانیاں جب گھر میں آتیں تو سلام دعا کر
پھسکڑا مار کر صحن میں بیٹھ جاتی تھیں۔ اے بیگم کچھ سنا تم نے پیش کار صاحب کی لڑکی
کی بات ٹوٹ گئی۔ لوبیوی غضب خدا کا کیا زمانہ آگیا۔ ٹھیکرے کی مانگ تھی ون کی اور
وہ تحصیلدار صاحب ہیں اونچی ڈیوڑھی والے۔ ان کے ہاں جو چھوکری ملازم ہے اس نے تحصیلدارنی
کی انگھوٹھی چرالی۔ جب چار چوٹ کی مار پڑی تو قبولی اورنیفے میں سے انگوٹھی نکال کردی
مردار نے۔ کلوڈھیلے کے ہاں کل وہ بھوگ پڑا کہ الٰہی تو بہ اے کوئی بات بھی ہوگھر والی
نے کل یہ کہہ دیا کہ خیر سے لڑکی سیانی ہونے کو آئی اس کی کچھ فکر کرو بس بیگم وہ
تو نہ جانے کب سے بھرا بیٹھا تھا۔ ون نے چیخ چیخ کر پورا گھر سرپہ اٹھالیا۔ مردوئے
کی مت اوندھی ہوگئی ہے۔ اے نہ ہوئی میں کیا بیاہ شادیاں نہیں ہوتیں۔ اے ہے کسی پھٹکی
پڑگئی میری یاد پر بیگم کچھ اور بھی سنا دہ جو کینی باغ میں چاندنی چوک کے رخ گھنٹہ
گھر کے سامنے ملکہ ٹوریا کا بت ہے ناستیا ناس پیٹا رات کو کسی نے وس کی ناک کاٹ کر
گلے میں جوتیوں کاہار ڈال دیا۔ لنگڑا کو توال اور کنستر بھی دیکھنے آیا تھا۔ غرض جی
مہترانی سارا کام تو کمیریوں سے کراتی تھیں اور خود بیگم سے بیٹھی باتیں مٹھاراکرتی
تھیں۔ ان کی زبان میں بیگموں کی زبان کی مٹھاس اور روانی آگئ تھی۔
دلی والوں نے خواص اور عوام کی زبان کو کبھی الگ الگ نہیں رکھا۔
میرتقی میر نے فرمایا تھا کہ میری زبان کی سند جامع مسجد کی سیڑھیوں سے لیجئے۔ ذوق
کی زبان بھی دلی کے گلی کوچوں کی زبان تھی۔ پھر داغ نے تودلی کے محاوروں سے زبان کے
وہ جادو دکھائے جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ میرتقی میر کا یہ شعر تو اہل دلی
نے باربارسنا ہوگا:
گفتگو ریختے میں ہم سے
نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
اور داغ کا یہ دعویٰ تو
ضرب المثل بن گیاتھا:
اردو جسے کہتے ہیں ہمیں
جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری
زباں کی ہے
دلی والوں کازبان پر ناز کرنا اس حدتک تو درست ہے کہ ان کا تعلق
زبان کے منبع ومخرج سے ہے لیکن صاحب یہ کچھ ان کااپنا حاصل کردہ نہیں ہے۔ خدا نے آپ
کو یہاں پیدا کردیا کسی دوسرے کو کسی اور مقام پر پیدا کردیا پھر بتائیے آپ نے اس
ضمن میں کیا کوشش کی۔ خدا کی طرف سے عنایت کردہ انعام پر آپ کا ناز بے جاکر نادرست
نہیں۔ دوسروں کو چاہئے کہ وہ اسے نزاعی مسئلہ نہ بنائیں اردو زبان کی صحیح نہج جاننے
اوراس پر روزمرہ اور محاورے کا لطف اٹھانے کے لئے دلی سے رجوع کریں باقی علم و ادب
میں اگر وہ فضیلت رکھتے ہیں تو دلی کے لوگوں کو ان کی برتری کااعتراف کرنا چاہئے۔
ایک زمانے سے یہ سنتا آیاہوں کہ بتائیے کہ دلی والا کون ہے۔
دلی کی تین چوتھائی آبادی تو باہر والوں کی ہے جن لوگوں کانام دلی والے سند زبان کی
روسے لیتے آتے ہیں۔ وہ بھی کسی غیردیار سے یہاں آئے تھے۔ تاریخ کی اس حقیقت کو جھٹلایا
بھی نہیں جاسکتا لہٰذا کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ جو لوگ عذر کے پہلے سے دلی
میں رہتے ہیں وہ دلی والے ہیں کسی نے کوئی اور صفت تلاش کرلی۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ دلی ایک بین الاقوامی شہر کادرجہ رکھتاتھا یہاں جگہ جگہ سے لوگ
آتے رہے۔ دنیا بھر کے لوگوں سے مل کر یہاں کی تہذیب اور ثقافت نے فروغ پایا۔ کثرت
میں وحدت کانمود ہوا۔ ادب آداب طورطریقے راہ سم کی بنیاد پڑی جو لوگ آج بھی اس روایت
کا احترام کرتے ہیں اور تہذیب کی رسی کو دانتوں سے پکڑے ہوئے ہیں وہ دلی والے ہیں ورنہ
ان پروہی مثل صادق آتی ہے کہ دلی میں رہے اور بھاڑ جھونکا۔ خیرصاحب مجھے تو دلی کے
اینٹ روڑے خاک اور مٹی سب عزیز ہے۔ جو اس شہر میں آکر بسا وہ دلی والاہوگیا۔ خداکرے
اب وہ دلی کے عادت اطوار بھی اپنالے۔ اسی لئے باربار دلی کی داستان سناتاہوں۔ گاہے
گاہے بازخواں ایں قصۂ پارینہ را۔
سید ضمیر حسن دہلوی
No comments:
Post a Comment