دلّی کے موسم
متمدن شہروں کی عام کمزوری یہ ہے کہ وہاں کے لوگ فطرت اور اس
کی بوقلمونی سے کوئی خاص لگاؤ نہیں رکھتے، دلی اس کلیہ سے مستثنیٰ ہے۔ دلی والوں نے
آریہ ورت کے کاشتکاری کردار کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ یہاں کے موسموں میں بھی اعتدال
کی بجائے شدت پائی جاتی ہے۔ گرمی پڑتی ہے تو ایسی کہ خلقِ خدا تراہ تراہ پکارتی رہے۔
جاڑے کا یہ عالم کہ اچھا خاصا انسان سردی کے موسم میں بنولا بن جاتا ہے اور برسات میں
جب جھڑی لگتی ہے تو ہر سمت جل تھل دکھائی دیتے ہیں۔ ان شدید موسموں سے لطف اندوز ہونا
اور ایک ایک رت کا بھرپور مزا لینا دلی کے خوش مزاجوں ہی کا کام ہے۔
گرمی کے موسم میں دلی والوں کا ایڑی سے چوٹی تک پسینہ بہتا ہے۔
جھلستا ہوا سورج اور جھلستی ہوئی زمین کے درمیان لوگ کباب سیخ کی طرح گھڑی گھڑی پہلو
بدلتے ہیں۔ پھلر والے لال کمہلائے جاتے ہیں اور گلاب سے گال مرجھائے جاتے ہیں۔ لو کی
وہ شدت ہوتی ہے کہ بھاڑ بھنتا ہے۔ مٹر کے دانے زمین پر پھینکو تو بھن کر چٹخنے لگیں۔
رات کو حبس ایسا ہوتا ہے کہ دم گھٹ جاتا ہے۔ اس پر بھی دلی والے کسی نہ کسی طرح دل
بہلانے کے ڈھنگ ایجاد کرلیتے تھے۔ دن کو جھوانسے اور خس کی ٹٹیاں لگائی جاتی تھیں۔
ان پر پانی کے تریڑے پڑتے تھے، ہزارے چھوٹتے تھے۔ ہزاروں کے منہ پر پودینے کی گھٹیاں
بندھی ہوتی تھیں۔ پانی میں گلاب ملایا جاتا تھا۔ پرانی حویلیوں میں تہہ خانے تھے۔ جب
سورج اونچا ہوجاتا تو گھر والے تہہ خانوں میں اترجاتے تھے۔ شام کے لگ بھگ ان تہہ خانوں
سے نکلتے، نہاتے دھوتے، جوڑے بدلتے، شربت پیتے، پان کی گلوری منہ میں دباتے اور سیر
کرنے نکل جاتے تھے۔ جن کے پاس ریڑھیاں اور تانگے تھے، وہ ان میں ہوا کھاتے جن کے پاس
اپنی سواری نہ تھی، وہ بیگم کے باغ اور فیروزشاہ کوٹلے میں جابیٹھتے تھے۔ آج کل خس
خانوں کی جگہ کولروں نے لے لی ہے، مگر ان میں وہ بات کہاں جو ہزاروں اور خس خانوں میں
تھی۔ کولر کی ہوا سے تو دن بدن لوگوں کے جسم میں درد اور نزلے کی شکایت پیدا ہورہی
ہے۔ پرانے دلی والوں کی ایجاد کا ہنر یہ تھا کہ ان میں کوئی صورت خرابی کی نہ تھی۔
گرمی کا دف مرتا، دماغ کو فرحت نصیب ہوتی اور آدمی کی چونچالی میں کوئی فرق نہ آتا
تھا۔
ساون میں بارش کو ذرا دیر ہوجاتی تو بچے منہ پر سیاہی مل کر
ٹولیاں بنا بنا کے گاتے پھرتے تھے۔ کالے ڈنڈے پیلے ڈنڈے برسے گا برسائے گا، کوڑی کھیت
لگائے گا۔ لمبے لمبے کرتے پہنے فقیروں کی ٹولیاں محلے محلے گھومنے لگتی تھیں۔ اللہ
کے نام کا بھنڈارا ہوگا۔ پھر ایک صاحب جو اس ٹولی کے سربراہ ہوتے چند خود ساختہ ناموزوں
اشعار پڑھتے وہ رکتے تو سب مل کر ٹیپ کا مصرعہ اللہ کے نام کا بھنڈارا ہوگاباآواز
بلند اٹھاتے تھے۔ لوگ حسب توفیق انہیں دان دیتے تھے۔ خدا جانے یہ بھنڈارا کب اور کہاں
ہوتا تھا۔ ہوتا بھی تھا یا نہیں، مگر دینے والوں کی نیتیں ٹھیک تھیں۔ گھی کہاں گیا
کھچڑی میں کھچڑی کہاں گئی پیاروں کے پیٹ میں۔ اللہ کی شان ان ٹوٹکوں سے بارش بھی ہوجاتی
تھی۔ کڑک اور گرج کی آوازیں سن کر لوگ اندر دالان میں آبیٹھتے تھے۔ آسمان پر سہانی
گھٹائیں جھوم جھوم کر آتی تھیں، اب جو دھونتال مینہ برستا تھا تو گرمی کے سارے دلدر
دور ہوجاتے تھے۔ ایسے میں لڑکیاں بالیاں کاہے کو نچلی بیٹھتیں۔ بارش میں باہر تو نکل
نہیں سکتی تھیں۔ پیش دالان کی چھت میں دو قلابوں کے درمیان بیلن پڑا ہوتا تھا، اس میں
ووہرا جھولا فوراً ڈال دیا جاتا تھا۔ گنگا جمنی رسیاں اور لال سبز پٹڑیاں ڈال دو لڑکیاں
آمنے سامنے پیر جوڑ جھولوں میں بیٹھ گئیں اور دو جھلانے لگیں۔ جھولا کن ڈارو رے امریاں۔
جھولے کا یہ گیت سنا ہے دلی کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا لکھا ہوا ہے۔ مینہ کا
زور کم ہوا اور ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی تو گرمی سے جھلسے ہوئے بچے انگنائی میں جابیٹھے۔
پھوار میں بھیگنے سے بدن کی گرمی چھٹتی ہے۔ گرمی دانے مرتے ہیں اور بدن پر جولانی طاری
ہوتی ہے۔
جاڑے کا موسم آتا تو اس کی آمد سے پہلے ساری تیاریاں کرلی
جاتی تھیں۔ گرنٹ کے لحاف، پوت کی رنگا رنگ رضائیاں بنائی جاتی تھیں۔ تین چار مہینے
کا ایندھن بخاریوں میں بھرلیا جاتا تھا۔ کھانے پینے کی چیزیں اور میوے جمع کرلیے جاتے
تھے۔ سردی شروع ہوتے ہی لوگ مرغن غذائیں کھانے لگتے تھے۔ دن بھر دھوپ میں بیٹھے سنکا
کرتے تھے اور شام ہوتے ہی رضائیوں میں دبک جاتے تھے۔ روئی بھرے کپڑے پہننے کا بھی رواج
تھا۔ بڑے بوڑھے پجامے بھی ہلکی سی روئی بھرواکر پہنا کرتے تھے۔ عورتیں کشمیری شال اور
دوشالے اوڑھا کرتی تھیں۔ جن عورتوں میں انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں تھی، وہ دلائیاں
بنالیتی تھیں۔ رات کو اول وقت سے لوگ کام کاج چھوڑ کر ایک جٹ بیٹھ جاتے تھے۔ کوئی بڑی
بوڑھی قصہ کہانی چھیڑ دیتی تھی۔ جب رات بھیگنے لگتی تو سوجاتے تھے۔ عام طور سے زمین
پر سویا جاتا تھا۔ چھوٹے بچے آپس میں گڈ مڈ ہوئے پڑے رہتے تھے۔ صبح اٹھتے تو صحن میں
ژالہ باری کی ننھی ننھی بوندیں دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ کبھی کبھی تو مٹکوں کا پانی جم
جاتا تھا، غرض یہ کہ ہر موسم کا الگ الگ لطف تھا۔ آج کل دلی والوں کو یہ مزے کہاں
ملتے ہیں۔ذرا گرمی پڑی، پنکھے اور کولر کھل گئے۔ نہ پسینہ آیا نہ بدن کی بھڑاس نکلی۔
کہتے ہیں پسینہ بھی اللہ کی طرف سے بدن کو صاف کرنے کا نظام ہے، یہ نہیں نکلتا تو اندر
ہی اندر بیماریاں پلتی رہتی ہیں۔ مسام کھلتے نہیں تو جسم گرمی سے تپ جاتا ہے۔ گرمی
گئی اور برسات آئی بتائیے اب جائیں کہاں۔ باغ بغیچے ختم ہوئے، دلوں پر مردنی چھا گئی
ہے۔ جاڑے کا موسم ہیٹر کی نذر ہوا۔ کھانے پینے کی نعمتوں کا مہنگائی اور بے ایمانی
نے صفایا کردیا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ نیت گیل برکت ہوتی ہے۔ سونیتیں خراب ہوگئیں تو دنیا
کے مزے بھی ناپید ہوگئے۔ اب تو ہر موسم طبیعتوں کو ناگوار گزرتا ہے۔ آدمی لطف اٹھانا
تو بھول گیا فقط کڑ کڑ کیے جاتا ہے۔ بھلا دیکھیے تو سہی کیسی ناشکری کا دور ہے۔
غیرممالک ہمارے یہاں کے موسموں کو دیکھ کر رشک کرتے ہیں۔ بہتیرے
تو گرمی کا مزا لینے اپنا گھر چھوڑ کر یہاں آتے ہیں اور گوا کے ساحل پر گرم ریت میں
پڑے رہتے ہیں۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ ان کے بدن کی جلد گرمی اور ریت کی تپش سے جھلس
جاتے ہیں۔ رنگ سفید سے سیاہ ہوجاتا ہے، مگر وہ اس کا برا نہیں مانتے ایک غیرملکی کو
یہ کہتے سنا گیا کہ ہندوستانی لوگ عجیب ہیں، گرمی کے موسم میں سردی کے خواہاں رہتے
ہیں۔ ایئرکنڈیشن لگا کر گھروں کو ٹھنڈا کرتے ہیں اور سردی کے موسم میں گرمی کے خواہش
مند ہوتے ہیں۔ ہیٹر اور گیزر لگا لگا کر ماحول کو گرماتے ہیں۔ برسات تو خیر ان کے لیے
مصیبت ہی بن جاتی ہے۔ گھر سے باہر نکلنا ہی بند کردیتے ہیں اور بارش کے آنے پر بڑ
بڑا کر شکایت کرتے ہیں۔ دلی والے اگر کہیں کونے کھدرے میں پڑے ہوںگے تو وہ اب بھی کم
سے کم موسموں کا رونا نہیں روتے ہوںگے۔ یہ دوسری بات ہے کہ گھروں کی وضع قطع اور بازاروں
کی بھیڑ بھاڑنے انہیں بھی باولا بنادیا ہے۔ روز بروز دلی کی آبادی بڑھنے سے ہر طرف
اونچی اونچی عمارتیں بن گئی ہیں اور مخلوق اللہ معاف کرے چیونٹیوں کی طرح نکل پڑی ہے۔
جدھر جائیے آدم ہی آدم ہے۔ خدا سب کو سلامت رکھے اور
اچھے دن دیکھنا نصیب کرے۔ آمین۔
سید ضمیر حسن دہلوی
No comments:
Post a Comment