دِلّی کی تعمیراور بربادی
دلی کی تعمیر کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ناصر نذیر فراق نے لکھا
ہے کہ جب لال قلعہ اور جامع مسجد بن کر تیار ہوگئے تو شاہجہاں نے حکم دیا کہ امراء
اور رؤساء کی حویلیاں شہر کے بیچوں بیچ اور کاریگر ، صنعت کاروں کے کوچے کنارے کنارے
بسائے جائیں۔دلی گیٹ سے جٹواڑے، قصاب پورے، گھونسیوں کے محلے، کھٹیکوں کی بستی،کونڈے
والان، نیاریان،رود گران، چابک سواران اور فراش خانے سے گزر کر آپ مسجد فتح پوری پہنچ
جائیں گے۔چاندنی چوک میں جو گلیاں اور کوچے ہیں وہ نوابین، رؤساء ور جوہریوں سے آباد
تھے۔جامع مسجد کے قریب کوچہ چیلان میں علماء اور صلحاء رہتے تھے۔بنگش کے کمرے کے پاس
نواب مصطفیٰ شیفتہ کی حویلی، صدر الصدور کی حویلی ، نواب دوجانے کا مکان ، نواب عزیز
آبادی کا پھاٹک، شیش محل، چاندنی محل سب اسی قرب و جوار میں واقع ہیں۔سیتا رام بازار
اور بلبلی خانے میں بھی امیروں کی بارگاہیں تھیں۔ اب نہ وہ امیر رہے نہ ان کے مکانات،
فقط نشان باقی ہیں جو اگلے وقتوں کا فسانہ زبانِ حال سے سنارہے ہیں۔ جب حویلیاں نہ
رہیں تو یہ نشان بھی کب تک باقی رہیں گے۔ ابھی کچھ دن پہلے بُلڈوزر چلے تھے تو دلی
والوں نے آس چھوڑ دی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ سارا شہر ایک لمبے چوڑے صحرا میں بدل جائے
گا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے چند جیالوں کا ، جنہوں نے جان پر کھیل کر دلی کو بچا لیا مگر
یہ بھی آخر کب تک بچائیں گے، جس شہر میں ہزاروں کی گنجائش تھی وہاں لاکھوں بسے ہوئے
ہیں۔روز صبح سے شام تک آنے والوں کی بھرمار رہتی ہے۔ آدمی کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے
دکھائی دیتے ہیں۔ بازاروں میں چلنا مشکل ہوگیا ہے۔گلیاں بازار جو کبھی اوراق مصّو ر
تھے، اللہ معاف کرے۔ ڈلاؤ کی صورت ہوگئے ہیں۔دلی کے پرانے مکین دیکھ دیکھ کر ہولتے
رہتے ہیں مگر جس طرح بنتی میں ہر شے ساتھ دیتی ہے اسی طرح بگڑتی میں زمین و آسمان
دشمن ہوجاتے ہیں۔کوئی کتنا زور لگالے جو ہونا ہے وہ ہوکر رہتا ہے۔خدا اس شہر کے اگلے
دن لو ٹادے۔دلی والوں کی باچھیں کھل جائیں گی۔
غدر کے زمانے میں ایک فقیر دلی کے گلی کوچوں میں لہک لہک کر
صدا لگاتے تھے۔سات دلّی آٹھ با دلی، قلعہ وزیر آباد، اس زمانے میں تو لوگ اس کو مجذوب
کی بڑ سمجھتے ہوں گے لیکن آج معلوم ہوا کہ جب سات دلّیاں بس کر اجڑ گئیں تو آبادی کا پھیلاؤ بادلی
کی طرف بڑھا، اور اس سے آگے وہ زمانہ آیا جب وزیر آباد کے قلعہ تک دلی کی حدود پھیلتی
چلی گئیں۔اب تو خدا رکھے یہ عالم ہے کہ دلی، یوپی اور ہریانہ سب ایک ہوگئے ہیں، اگلے
دس برس میں لوگوں کا اندازہ ہے کہ دلی چالیس میل تک اور پھیل جائے گی۔لو بھائی آج
تک تو دلی کی ایک ہی سَوت یعنی نئی دلی تھی اب اور کئی پیدا ہوں گی۔ہم دلی والے حسد
کی آگ میں تو جلتے نہیں ،اللہ انہیں بھی پنپنا مبارک کرے۔ ہاں یہ دعا ضرور کرتے ہیں
کہ دلی کا سہاگ برقرار رہے۔اس کی قسمت کے پھیر نکل جائیں اور اگلی رونقیں دوبارہ لوٹ
آئیں ،دلی کیا تھی ، کیسی تھی ،کیوں مشہور ہوئی یہ تو آپ کو اسی وقت اندازہ ہوگا
جب دلی والوں کی اقدار اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔سچ ہے شنیدہ کہ بود مانند دیدہ۔ابھی
تو یہ ساری داستان الف لیلیٰ کا یک رنگین باب
نظر آتی ہے۔خدا را غور سے سن لیجیے کل سنانے والوں کا بھی توڑا ہو جائے گا۔
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنئے گا۔ پڑھتے کسی
کو سنئے گا تو دیر تلک سر دھنئے گا۔دلی کی تعمیر کا افسانہ سنا ،اب دلی کی بربادی کا
ذکر بھی سن لیجئے۔اب سے دور خدا وہ دن نہ دکھائے۔1947 کے وسط میں جب چھرے گھونپے جارہے
تھے اور شام کے چھ بجے سے صبح کے چھ بجے تک کرفیو لگ رہا تھا۔ دلی کے دوچار من چلوں
کو سوجھی کہ اس تان رس خان کی حویلی میں ایک جلسہ کیا جائے۔چاندنی محل سے ذرا آگے
یہ حویلی ہے۔چنانچہ اس حویلی میں نامی گرامی گائک جمع کیے گئے۔ ہونہار جوانوں نے اپنے
اپنے گھرانوں کے باج طبلے پرسنائے یا کسی نے قاعدہ کھولا۔ کسی نے ریلا پھینکا، کسی
نے گت اورپرن سنائے،کسی نے چوپلی کا حساب پیش کیا۔ آخر میں استاد گامی خاں جوڑی لے
کر بیٹھے۔گامی خاں کا رشتہ کئی پشت اوپر استاد مکھو خاں سے جا ملتا تھا۔یہ مکھو خاں
وہ تھے جو خواجہ میر درد کی محفلوں میں پکھاوج اور طبلہ بجایا کرتے تھے۔ لال قلعے کے
اکثر شہزادے ان کے شاگرد تھے۔اسی محفل میں یکتائے روزگار استاد بندو خاں سارنگی نواز
بھی موجود تھے۔ انہوں نے اپنے لیے بانس کی ایک سارنگی بنائی تھی۔تار اور طربیں ملا
کر استاد بولے آج میں آپ حضرات کو دیپک راگ سناؤں گا۔ استاد چاندخاں تڑپ کر بول
اٹھے، نہیں بھائی صاحب! دیپک راگ نہ سنائیے کچھ اور بجا لیجیے۔بُندو خاں نے مسکرا کر
کہا ۔چاند خاں ڈرو مت،دیپک سے آگ نہیں لگے گی۔ اب تو سن لو، آئندہ نہیں بجائیں گے۔یہ
کہہ کر انہوں نے دیپک راگ شروع کردیا۔ سیدھا سادا راگ تھا، خان صاحب نے خوب جی بھر
کر بجایا۔انہوں نے اپنی سارنگی رکھی تو صبح کی اذانیں ہونے لگیں۔ کرفیو کھلا اور صحبت
شب برخاست ہوئی۔
دلی میں فسادات بڑھتے ہی چلے گئے۔ لوگ مارے جارہے تھے۔ گھر لُٹ
رہے تھے۔ قرول باغ جہاں کبھی جامعہ ملیہ جیسا ادارہ تھا اور شہر کے معزز مسلمان رہا
کرتے تھے، دیکھتے دیکھتے ختم ہوا۔ سبزی منڈی ختم ہوئی۔بڑے بڑے جیالوں نے فوج اور ملٹری
کے آگے دم توڑدیا۔پھر پہاڑ گنج کا نمبر آیا۔ یہاں دلی کی سب سے مضبوط برادری پتھر
پھوڑوں اور بندھانیوں کی آباد تھی۔لوگ سمجھتے تھے کہ یہ مورچہ کبھی نہیں ٹوٹے گا مگر
افسوس یہاں سے بھی مسلمانوں کو نکل نکل کر بھاگنا پڑا۔ ہزاروں شہید ہوگئے اور ہزاروں
زخمی ہوئے۔ساری دلی میں بھیروں ناچ رہا تھا۔ کچھ لوگ جان بچا کر پاکستان چلے گئے۔ بندو
خان بھی کراچی پہنچے اور لالو کھیت کے ویرانے میں پڑ رہے۔نہایت عسرت اور تنگ دستی میں
آخری عمر بسر ہوئی۔چاند خاں صاحب دلی میں رہ گئے۔ سالہا سال بعد نذیر احمد کے پوتے
شاہد احمد دہلوی دلی آئے تو چاندخاں سے ملاقات ہوئی۔انہیں دلی کا وہ جلسہ یاد دلا
گیا۔ چاند خاں رقیق القلب فقیر منش آدمی تھے، آبدیدہ ہوگئے۔بولے بھائی صاحب آپ نے
دیکھ لی دیپک کی نحوست ، دلی کو لوکا لگ گیا۔ہم دلی میں ہیں، ہماری دلی کو فراق کی
آگ لگی ہوئی ہے۔یہ آنسوئوں سے بھی نہیں بجھتی۔ایک ایک کو آنکھیں ڈھونڈھتی ہیں۔شاہد
صاحب سوچتے رہے ،کیا واقعی 47 میں جو دلی بھسم ہوگئی تو بقول چاند خاں یہ راگ کی آگ
میں جلی تھی یا یہ محض ایک سوئے اتفاق تھا۔
اس زمانے، 46 یا 47 میں جگت ٹاکیز پر فلم زینت چل رہی تھی۔فلم
بھی ٹریجڈی تھی اور اس میں ایک نئی دلہن عین شادی کے دن بیوہ ہوگئی تھی،خیر وہ تو ایک
کہانی تھی مگر اس فلم میں ایک گانا تھا ۔’’آندھیاں غم کی یوں چلیں باغ اجڑ کے رہ گیا‘‘۔بچے
اگر کبھی اس گانے کو گنگناتے ہوئے بازار سے گزرتے تو دکاندار برا بھلا کہتے تھے۔ ڈانٹتے
تھے،اتفاق یہ ہوا کہ اس کے کچھ عرصے بعد ہی بٹوارہ ہوا، فسادات ہوئے اور ہزاروں کو
یہ کہنے کا موقع ملا کہ دیکھ لیا غم کی آندھیاں کیسی چلتی ہیں، اور گائو غم کے گانے۔
پھر تو یہ سلسلہ چل ہی پڑا۔ ایک گانا کسی فلم میں یہ آیا کہ ’’ایک دل کے ٹکڑے ہزار
ہوئے کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا‘‘ اور ملک کے بھی ٹکڑے ہوگئے۔
دلی میں بری بات منہ سے نکالنا کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔ گھنائونی
چیزوں کا نام لینا بھی گوارانہ تھا۔جھاڑو کو ستھرائی، سانپ کو رسی، چھپکلی کو دیوار
والی،بیت الخلا کو جا ضرور، زلزلہ کو ابن چین ہمارے بچپن تک کہا جاتا تھا۔یہ سب نفاستیں
تھیںجن کے ساتھ دلی کے بچوں کی پرورش ہوتی تھی۔ مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے۔
ادب، احترام اور خصائل پسندیدہ تو بچپن ہی سے ان کی گھٹی میں پڑجاتے تھے۔ ماں باپ اور
دیگر بزرگ رشتہ داروں کا تو ذکر ہی کیا ،بچے محلے کے بڑے بوڑھوں سے بھی اچھی باتیں
سیکھتے تھے۔اخلاقی نکتے سمجھتے تھے۔کھیل کو د بھی ان کے ایسے تھے جن سے ان کی اخلاقی
تربیت ہوتی تھی۔
حضور ، میرے زمانے کی دلی کے فسانے بہت طویل ہیں، سناتا چلا جائوں تو کبھی ختم
نہ ہوں گے مگر رات تھوڑی ہے اورسوانگ بہت۔ مجھے تو دلی کی باتیں کرنے میں مزا آتا
ہے۔آپ تھک گئے ہوں گے اس لیے اجازت چاہوں گا۔ باقی پھر کسی محفل میں سن لیجیے گا
۔ یار زندہصحبت باقی۔
سید ضمیر حسن دہلوی
No comments:
Post a Comment