Pages

Friday, 10 May 2013

میرے زمانی کی دِلّی : سید ضمیر حسن دہلوی

میرے زمانے کی دِلّی 


دلی یوں تو بقول شخصے غدر سے پہلے ہی اجڑا نگر کہلانے لگی تھی اور غدر کے بعد اس کا رہا سہا جوبن بھی ختم ہوا۔ تاہم آزادی سے پہلے دلی میں ایسے بزرگوں کی ایک کھیپ موجود تھی جو اس شہر کے اگلے وقار کو آنکھوں میں بسائے اسے دوبارہ آباد کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ لوگ بھی میرے بچپن کی دلی کے ساتھ قصہ پارینہ ہوئے۔ اب بچا کیا ہے سوائے یادوں کی برات کے، جہاں تک میرا تعلق ہے، میں نے دلی شہر کی آبادی تو کیا اس کی کچھ پرچھائیاں سی دیکھی ہیں، جو کچھ دیکھا اور جو کچھ اگلے دلی والوں سے سنا ہے وہ میرا سرمایۂ حیات ہے۔ اس اوچھی پونجی پر میں یہ کہوں کہ میں نے دلی کی تہذیب رفتہ کا اس مضمون میں چرچا کیا ہے تو یہ مجھے زیب نہیں دیتا۔ میں کیا اور میری بساط کیا۔ ننگی کیا نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ البتہ جو کچھ سنی سنائی باتیں ہیں اور بزرگوں کی بیان کردہ تحریروں میں پڑھا ہے اس پر تکیہ کر کے ہرزہ گوئی کا قصوروار ٹھہرا ہوں۔

احباب میرے اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ تو دلی کی زبان بولتا ہے۔ لہجے میں کوثر و تسنیم کی روانی اور قند و نبات کی مٹھاس ہے۔ میں بھلا اس ضمن میں کیا عرض کروں۔ مشک آنست کہ خودببوید نہ کہ عطار بگوید۔ اسے الطاف رحمانی سے تعبیر کروں تو بجا ہے اور فیضان خاک پاکِ دہلی کا کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ میں نے جوتیاں ایسوں کی سیدھی کی ہیں جو طوطی صفت گویا ہوتے تو خلقت بنظرِ استحسان ہمہ تن گوش ہوجاتے تھے۔ بیرسٹر آصف علی، خواجہ حسن نظامی، آغا حیدر حسن دہلوی، اشرف صبوحی، ملا واحدی، مولانا احمد سعید اسیر دہلوی، شاہد احمد دہلوی، خواجہ محمد شفیع، لالہ مہیشور دیال، مرزا محمود بیگ اور بیرسٹر نورالدین احمد کے جو کلمات خوبیٔ تقدیر سے آویزۂ گوش ہوئے انہیں دل کے نہاں خانوں میں یوں سمولیا جیسے پھول کی پتیاں خوشبو کو سموتی ہیں یا ارگنوں کے پردے میں موسیقی کے سر سما جاتے ہیں۔

امریکہ کے کسی شہر کی فلک بوس عمارتوں کو دیکھ کر ایک دانشور نے کہا تھا کہ ان عمارتوں کے مکین آسمان کی سرگوشیاں تو سن لیتے ہیں، مگر پیرس اور لندن میں رہنے والوں کے برعکس ان کا رشتہ زمین کے ساتھ استوار نہیں ہے۔ اساطیر، روایات اور تہذیب کا لوگوں کی زندگی میں وہی درجہ ہے جو فرد کی زندگی میں حافظے کا ہوتا ہے۔ حافظہ باطل ہوا تو انسان صرف چوپایہ ہو کر رہ جائے گا۔ بظاہر یادوں کا عمل بے معنی اور بے سود دکھائی دیتا ہے۔ کچھ لوگ تو اسے مریضانہ انداز فکر سے تعبیر کرتے ہیں مگر اس شغل کی معنویت کا طلسم ان پر کھلتا ہے جو احساس کی دولت سے مالا مال ہیں۔ یادیں ہماری شخصیت کی بنیاد ہیں۔ یادیں نہ ہوں تو ماضی نہیں رہتا اور ماضی بغیر حال کی اہمیت ایک غیر مشخص غبار سے مطلق زیادہ نہیں ہے۔

غدر اس اعتبار سے تو ایک اہم واقعہ ہے کہ اس نے مغلوں کے سیاسی اقتدار کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور قلعہ والوں کی زندگی کا نقش دلی والوں کے دلوں پر اتنا گہرا تھا کہ فرنگی راج اسے مندمل نہ کرسکا۔ دلی کے امراء اور رؤساء ہنگامے کے دوران تو دلی چھوڑ کر ادھر ادھر نکل گئے، لیکن امی جمی ہوتے ہی لوٹنے لگے۔ دہائیوں کے بعد دلی والے واپس شہر میں آئے تو ان کے ساتھ باہر والے بھی جوق در جوق یہاں آکر آباد ہوگئے۔ باہر والوں کو دلی ہمیشہ راس آتی رہی۔ ہماری دادی پردادی کہتی تھیں کہ دلی یہاں والوں کی بیوی ہے اور باہر والوں کی ماں۔ پوچھا کیوں تو بتایا کہ بیوی کی نگاہ شوہر کی جیب پر رہتی ہے اور ماں کی نگاہ اولاد کے پیٹ پر رہتی ہے۔ میرے بچپن میںدلی کی آبادی قریب قریب دس لاکھ ہوگی۔ ان میں یقینا باہر والوں کی اکثریت تھی، لیکن تہذیب کی کمان دلی کے پرانے رئیسوں کے ہاتھ میں تھی۔ کرخندار بھی جو کچھ سیکھتے تھے قلعہ والوں یا رئیسوں سے سیکھتے تھے، البتہ بعد میں ان کے اپنے مزاج کا رنگ غالب آجاتا تھا۔ بے چارے کرخنداروں پر فرنگی عہد میں بڑی لعن طعن کی جاتی تھی۔ کوئی ان کے رہن سہن کا مذاق اڑا تا تھا کوئی ان کی بولی ٹھولی پر ناک بھوں چڑھاتا تھا، مگر واقعہ یہ ہے کہ کرخندار بڑے غیور اور لمبی ناک والے تھے۔ غدر کے بعد جب انگریزوں نے دلی میں عوام اور کاریگروں کو سیاسی مصلحت کے تحت رجھانے اور مراعات سے نوازنے کی کوشش کی تو انہی کارخانے داروں نے ان مراعات کو ٹھکرا کر اپنے دست و بازو پر زندہ رہنے کا فیصلہ کیا۔ امراء قلعے کی روایات کو اپنے دیوان خانوں میں سنبھالے بیٹھے رہے اور عوام نے چھوٹے موٹے پیشے اپنا کر دست کاری کے ذریعہ روزی کمانے کا سامان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دلی میں انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا رواج بہت دیر سے ہوا۔ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو یہ کاریگری، دست کاریاں، گھریلو صنعتیں بھی تعلیم ہی کے ایک شق ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تعلیم صرف ذہنی جمناسٹک کا نام نہیں ہے۔ انگلیوں اور ہاتھوں پر دکھائے گئے کمالات بھی تعلیم کے زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں۔ دلی والے مدت تک غدر سے پہلے کی دلی کو یاد کر کے آنسو بہاتے رہے اور جیتے جی مغلیہ روایات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ سچ پوچھیے تو یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ البتہ زمانے کی افرا تفری اور بیرونی مداخلت نے اسے کچھ کا کچھ کردیا ہے۔

نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے
کبھی روئے کبھی سجدے کیے شاخِ نشیمن پر

دوسری جنگ عظیم کے بعد دلی میں تعلیم بھی عام ہوگئی تھی، یہاں تک کہ عورتوں میں بھی حصول تعلیم کا رجحان بڑھا تھا۔ چنانچہ گھاس کی منڈی، دریا گنج، کشمیری دروازے کے پاس لڑکیوں کے اسکول بھی کھولے گئے تھے۔ ان اسکولوں میں میٹرک تک تعلیم کا انتظام تھا۔ نئی روشنی گھروں میں پہنچ رہی تھی۔ پردہ باغ میں مینا بازار لگتا تھا، اس میں یوں تو دلی کی قابل ذکر خواتین باقاعدگی سے شرکت کرتی تھیں، مگر اس وقت کی روح رواں مسز آصف علی تھیں۔ آصف علی کی پرانے طرز کی عالیشان حویلی میں رہ کر ارونا آصف علی نے خود کو دلی والوں کے رنگ میں رنگ لیا تھا۔ آصف علی کی والدہ کی طرح رقیہ سلطان، غالب کی رشتے دار حمیدہ سلطان اور فخرالدین علی احمد کی والدہ خود اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں۔ ان خواتین کا گھرانہ دلی کی تہذیب کا آئینہ دار تھا۔ ان کا لباس، بول چال، رہن سہن سب دلی والوں کا تھا، حالانکہ ان کے شوہر آسام کے رہنے والے تھے۔ میٹھی سریلی آواز، مخاطب کرنے کا پیار بھرا انداز، خاطر مدارات میں نمائش کی جگہ خلوص، ہر چیز اس صدیوں پرانی تہذیب میں رچی بسی جو ان کو ورثے میں ملی تھی۔

سید ضمیر حسن دہلوی

دلی کے پرانے شہدے : سید ضمیرحسن دہلوی


دِلّی کے پرانے شہدے


ماہرین یادش بخیر۔کل کی بات ہے کہ دلی میں شادی کی وہ کون سی محفل تھی جہاں دلی کے پرانے شہدے نہ پہنچتے ہوں۔ نکاح ختم ہوتے ہی ان کے یہ بول محفل میں گونجنے لگتے تھے، ’’ الٰہی سازگاری ہو، محمد کا صدقہ ،الٰہی دولہا ست پوتا ہو،دولہا باوا کو پوتے پڑپوتے کھلانے نصیب ہوں۔ اللہ کرے، آمین، دلوائیے حضور سیدھے ہاتھ سے ہزار روپے اوردوشالہ ہم شہدوں کو۔ خدا حضور کو سلامت رکھے۔ خدا کا دیدار ہو، محمد کی شفاعت، سازگاری ہو، برخورداری ہو۔‘‘ اس کے بعد شہدے اور بھاٹ مل کریہ بول گاتے تھے۔’’ گوندھ لاری مالن پھولوں کا سہرا، آج بنا بنی کو مبارک ہو سہرا۔‘‘

اس وقت واقعی یہ محسوس ہوتا تھا کہ سچ مچ شادی کی محفل ہے اور سہرے کے پھول دولہا اور دلہن پر نچھاور ہورہے ہیں۔اس کے بعد وہ انعام مانگیں گے اور آپ کی مجال نہیں کہ انہیں باتوں میں ٹال سکیں۔سچ پوچھو تو یہ شہدے حقیقت میں منگلا مکھی تھے، ان کی صورتیں صرف خوشی یا شادی بیاہ کے موقع پر ہی دیکھنے کو ملتی تھیں۔ یہ نہ ہوتے توساری محفل سونی نظر آتی تھی، یہی شہدے برات کے ساتھ جہیز کی کھانچیاں اٹھوانے کا کام بھی کرتے تھے۔ یہی دلہن کا پلنگ یا چھپرکھٹ سجا سجو کر دولہا کے گھر لے جاتے تھے۔

دلی میں قدیم دور سے یہ رسم چلی آئی تھی کہ دلہن کا پلنگ صرف شہدے اٹھاتے تھے، ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکتا تھا۔ چونکہ عورتیں شادی کی پہلی رات کو تخت کی رات کہتی تھیں، ان شہدوں نے بھی اسی مناسبت سے اس پلنگ کو اپنی اصطلاح میں ڈھائی گھڑی کا تخت کہنا شروع کردیا۔ یہ شہدے اصل میں ہیں کون۔ کیوں کر ان کا یہ نام پڑا اور آئے کہاں سے۔یہ پلنگ اٹھانے کی رسم ان کے ساتھ کیونکر مخصوص ہوئی۔ اس کے تعلق سے سید احمد دہلوی نے اپنی تالیف’’ فرہنگ آصفیہ‘‘ میں لکھا ہے۔’’ایک فرقہ ہے جو اکثر ننگے پائوں اور ننگے سر رہتا ہے اور شادیوں میں دلہن کا پلنگ اٹھاتا ہے، جیسا یہ فرقہ گالی گلوچ میں مشہور ہے ویسا ہی دیانت دار بھی ہے۔ ادبی درجے کے شہدے وہ ہیں جو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے رہتے ہیں۔ شہدا ان کا نام دو وجہ سے مشہور ہوا۔ اول تو یہ کہ ان لوگوں کو بات بات پر نبی جی کی قسم کھانے کی عادت ہے، دوسری بات یہ ہے کہ شاید جھوٹی گواہی دینے سے بھی انکار نہیں ہوتا‘‘۔ خود شہدوں کا یہ کہنا ہے کہ تیمور بادشاہ جب کربلائے معلی گیا تو دیگر تبرکات کے علاوہ اسے وہ پلنگ مبارک بھی حاصل ہوا جو خاتون جنت بی بی فاطمہ ؓ کا تھا۔ تیمور نے یہ پلنگ ایسے لوگوں کے سپرد کیا جو سادات میں سے تھے اور شہدے کہلاتے تھے یا بعد میں کہلانے لگے۔وہ شہدے اس پلنگ کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ سروں پر رکھ کر تیمور کے ہمراہ ہندوستان لائے۔یہاں آکر جب یہ خدمت پوری ہوگئی تو تیمور نے حکم دیا کہ اب تم ڈھائی گھڑی کا تخت اٹھایا کرو۔ چنانچہ آج تک اسے شہدے ہی اٹھاتے ہیں۔ ممکن ہے خاتون جنت کا پلنگ لانے اور بعد ازاں ڈھائی گھڑی کا تخت اٹھانے کی یہ حکایت محض دلہنوں کا پلنگ اٹھانے کی رسم کو صرف اپنے سے منسوب کرنے کے لیے گھڑی گئی ہو، لیکن اس سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ فرقہ اس وقت کربلائے معلی میں موجود تھا اور وہیں سے ہندوستان آیا۔ کچھ عجب نہیں کہ تیمور ہی ان کو اپنے ساتھ لایا ہو۔ اصل میں شہدائے کربلا کے کچھ تبرکات تیمور ہندوستان لایا تھا۔ ان کو وہ ہمیشہ اپنے لشکر کے کجاووں میں رکھتا تھا۔اور جب کربلا کے ہوش ربا واقعات سنتا تو ان کجاووں کو بنظر احترام اپنے سامنے تختوں پر رکھولیتا تھا۔ تیمور نے ان کجاووں کو اٹھانے اور رکھنے کی رسم کی خدمت ان شہدوں کے سپرد کی تھی۔ بہرحال اس فرقے کے قدیم اور شاہی ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ سید وزیر حسن دہلوی نے ’’دلی کی آخری دیدار‘‘ میں لکھا ہے۔

’’قلعہ میں جونہی سواری صدر دروازے کنے آتی، امیر امراء پایہ چھوڑالگ ہوجاتے۔ توپیں دغتیں، زنبوریں چھوٹتیں، ساری فوج فرا سلامی اتارتی۔ شہدوں میں سے ایک آواز لگاتا ،الٰہی یہ سال ایک ہزار بار نصیب ہوں، باقی اس زور سے آمین کہتے کہ خاصّے کے گھوڑے بھی چمک اٹھتے۔بادشاہ سلامت بھر بھر مٹھیاں روپے، دو انّیاں، چوّنیاں پھینکتے، سواری رسان رسان آگے بڑھتی تھی۔‘‘ پھول والوں کی سیر کے موقع پر بادشاہ سلامت کی نقرئی پلنگڑی ان ہی شہدوں کے حوالے کی جاتی تھی ۔ وہ اسے لے کر مہرولی پہنچتے اور سیر کے بعد خود ہی واپس لاکر انعام پاتے تھے۔سرکار برطانیہ کی طرف سے بھی یہ انعام ایک مدت تک شہدوں کو ملتا رہا۔

قطب صاحب میں اولیاء مسجد کے قریب ایک شکستہ عمارت ’’ مقبرہ چہل تن چہل من‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ زیارت گاہِ خواص و عوام ہے۔ اس کے احاطے میں چالیس قبروں کے سوا کچھ نہیں۔ حاجی شہدے نے ان قبروں کے بارے میں بتایا کہ ’’ سب قبریں ان کے بزرگوں کی تھیں،ان بزرگوں کی محبتوں میں اس گنبد میں قریب نصف صدی پہلے چند شہدے رہتے تھے۔حاجی شہدے سب کے منڈ تھے،ان کا اصلی نام حبیب الرحمن تھا، حاجی ہونے کے سبب حاجی شہدے مشہور ہوگئے۔ان کے دادا جمّن جمعدار کو لال قلعے سے شہدوں کی جمعداری کا خلعت ملتا تھااور تنخواہ بھی مقرر تھی۔ شادی بیاہ کے علاوہ شہدے اکثر موقعوں پر رئیسوں اور نوابین کے مونڈتے کھاتے تھے۔پھول والوں کی سیر کے موقعہ پر مینا بازار کے کوٹھوں کے نیچے کھڑے ہوکر چیختے چلاتے اور انعام اینٹھتے تھے۔عید، بقر عید کے موقعوں پر قلعے کے امراء اور شہر کے نوابوں اور رئیسوں کے گھر جاتے اور تنخواہ وصول کرتے تھے۔جب ان رئیسوں کی عزت وآبرو یا جان کو خطرہ پیش آتا تو صحیح معنوں میںان کے حمایتی بن کر مددگار ثابت ہوتے اور ان کی خاطر اپنی جان لڑادیتے تھے۔ آمدنی کی کثرت اور فراوانی نے ایک طرف تو ان شہدوں اور ان کی عورتوں کو فکر معاش سے اس درجہ بے نیاز کردیا تھا کہ وہ صبح سے شام تک جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے رہتے تھے ۔سیڑھیاں چاٹ چاٹ کر اپنی دبی نعمت اور آقائوں کے حق میں دعائے ترقی عمر و دولت و اقبال کیا کرتے تھے،دوسری طرف ان بگڑے ہوئے رئیسوں اور ان کے آوارہ مزاج لڑکوں کو یہ موقع دیتے تھے کہ وہ آمدنی کی خاطر ان شہدوں میں آکر شامل ہوجاتے۔ان کے تمام رنگ ڈھنگ اختیار کرتے، ان کے شریک کار بن جاتے اور زندگی مزے سے گزارتے تھے۔

مشتاق عاشقی میں بے کیف ہے تقدس
جو عشق کے مزے ہیں سارے شہدپن میں ہیں

بعد غدر جب افراد شاہی میں سے بعض بد قسمت شہزادوں نے اپنے ہی نمک خواروں کے یہاں ڈیوڑھی پر رہ کر ایک مدت تک ان کی چلمیں بھری ہوںاور شہزادیوں نے گھروں میں ماما گیری کی ہو تو نوابوں اور رئیسوں کا شہدہ بن جانا کون سی دشوار بات تھی۔لہٰذالوگوں کا یہ کہنا کہ ان شہدوں میں بہت سے نوابوں اور رئیسوں کے لڑکے بھی شامل تھے ۔ واللہ اعلم۔


سید ضمیر حسن دہلوی

۔۔۔۔۔۔۔

دلی کے دکاندار : سید ضمیرحسن دہلوی


دِلّی کے دکاندار


دلّی کے دکانداروں کی بھی عجیب شان تھی۔ صبح نو دس بجے تو گھر سے نکل کر دکان جاتے تھے۔ ذرا دوپہر ہوئی اور سورج نے سر اٹھایا تو انہوں نے نوکر سے کہہ کے پردے چھڑوا دیے۔ سفید براق چاندنی پر گاؤ تکیہ اور بغلی تکیہ لگائے مزے سے بیٹھے رہے۔ جو کوئی اللہ کا بندہ ان کی روزی کا فرشتہ بن کر آتا اسے بٹ لیتے تھے۔ یہ نہیں کہ آتے جاتے لوگوں کو بیسواؤں کی طرح اشاروں سے بلا رہے ہیں۔ پڑوسی دکانداروں کی ٹوہ میں لگے بیٹھے ہیں۔ یہی کوشش کرتے ہیں کہ بس ایک میں رہ جاؤں اور ساری دنیا سے دکانداروں کا اوڑا پھر جائے۔ توبہ توبہ انہی باتوں سے آدمی خوار ہوتا ہے۔ انسانیت سے گر جاتا ہے۔ ہاؤ ہاؤ جو کرموں لکھا سو پاؤ۔ فصیل کے اندر جو دکاندار تھے، خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ بڑے سیر چشم تھے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے یاں تک سنا ہے کہ جب ان کی بھرت پوری ہو جاتی تھی تو گاہک کو پڑوس میں بھیج دیتے تھے۔ اول تو جہاں گلّے میں دال روٹی کے پیسے آئے اور انہوں نے نوکروں کو حکم دیا کہ چلو بھئی دکان بڑھا دو اب کہیں سیل سپاٹے کو جائیں گے۔

دلی میں تجار کو بڑی کم نگاہی سے دیکھا جاتا تھا۔ اس لیے نہیں کہ ان سے خدا واسطے کا بیر تھا بلکہ اس لیے کہ بیچارے رات دن ننانوے کے پھیر میں پڑے رہتے ہیں۔ صبح اٹھے اور چابیاں لے کر دکان کو سدھارے، شام کو آ کے گھر میں پڑ رہے۔ دلی والے جو اپنے تئیں فخر سے دلی والا کہتے تھے وہ کئی کئی گھڑیاں دیوان خانوں میں گزارتے تھے۔ ادھر ادھر کی گپیں ہانکتے، جب زبان خراد پر چڑھتی تھی اور دماغ یوں پرواز کرنے لگتا تھا جیسے معجون فلک سیر کھاتے ہوں۔

دلی کے ہر گھر میں ڈیوڑھی کے ساتھ دیوان خانہ یا بیٹھک ہوتی تھی۔ شام پڑے احباب یہاں جمع ہو جاتے اور دیر تک باتیں کیا کرتے تھے۔ باہر والوں کو جب دلی پر تنقید کرنی مقصود ہوتی ہے تو ناک چڑھا کر کہتے ہیں میاں انہیں مرچیں کھانے اور باتیں بنانے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے۔ چلئے اگر ہم صرف اتنا ہی مان لیں تو بھی یہ ہنر کیا کم ہیں۔ مرچ مسالوں سے وہ چٹپٹی چیزیں ایجاد کی ہیں کہ ان کا ذکر کیجئے تو منہ میں پانی آتا ہے۔ باہر والے الوداع کی نماز پڑھنے دلی آتے ہیں تو سینکڑوں روپے چاٹ جاتے ہیں۔ ایک نہاری کو ہی لے لیجئے، جس کے منہ لگتی ہے پھر نہیں چھوٹتی۔ بامن کی لڑکی کھائے تو کلمہ پڑھنے کو تیار ہو جائے۔ خدا غریقِ رحمت کرے چچا کبابی کو۔ جامع مسجد کے نیچے شمالی دروازے کی جانب بیٹھتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ان کے پاس وہ مسالے ہیں کہ کھڑنے بجار پر لتھیڑ دیں تو گل کے گر پڑے۔

یہ تو رہی مرچیں کھانے کی بات۔ اب ذرا باتیں بنانے کا بھی ذکر ہو جائے۔ کون ہے جو ان کے سامنے زبان دانی کا دعویٰ کرے اور خجالت سے پانی نہ بھرے۔ جن بزرگوں نے کل تک میر باقر علی داستان گو کی زبانی قصے سنے ہوں گے وہ آج تک ان کی باتوں کا مزا لیتے ہیں۔ خدا کرے بزرگوں کی روح نہ شرمائے۔ وہ گالیاں دیتے تھے تو سننے والوں کو جھاڑی بوٹی کے بیروں کا مزا آتا تھا۔

جو لوگ دہلوی تہذیب کی رسی کو دانتوں سے پکڑے رہے ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ فلک تفرقہ پرداز نے وہ تاک کے پتھر مارا کہ دلی شہر کے آثار تک نیست و نابود کردیے۔ اب لوگ جسے دلی پکارتے ہیں وہ ایک اجڑا دیار ہے۔ حویلیاں، چھتے، ڈیوڑھیاں، درو دیوار، طاق محرابیں سب دیکھتے دیکھتے دکانوں اور گوداموں کے جنگل میں بدل گئیں۔ جدھر نگاہ اٹھتی ہے پانچ چھ منزلہ مکان بنے دکھائی دیتے ہیں۔ نیچے بڑی بڑی مارکٹیں ہیں۔ زمین کھود کھود کر گودام نکالے گئے ہیں۔ دنیا کی چیزیں ان گوداموں میں بھری پڑی ہیں۔ اور خلقت کا اژدہام، خدائی خوار یوں مارا مارا پھرتا ہے جیسے کہیں سے ٹڈی دل نکل پڑا ہو۔ بھلے آدمی کو دیکھے سے وحشت ہوتی ہے۔ ایسے میں بس اپنا گھر بھلا اور آپ۔ جو لوگ میری طرح ہوسِ دنیا سے بھر پائے وہ گوشۂ عافیت میں پڑے رہتے ہیں اللہ اللہ خیر صلّا نہ دلی کا یہ حالِ خراب دیکھیں گے نہ آنکھوں سے لہو کی دھاریں بہیں گی۔

میاں اب یہ شہر غالب کے زمانے کا کیمپ اور چھاؤنی بھی نہیں۔ خدا آباد رکھے منڈی بن گیا ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پورے ایشیا میں یہاں کے بیوپاریوں نے تجارت کا میدان مارا ہے۔ کروڑوں روپے کی روز لوٹ پھیر ہوتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ہاتھی مرے پیچھے بھی سوالا کھ کا ہوتا ہے، وہ اب دلی کا حال ہے۔ کبھی یہ بین الاقوامی شہر تھا، سیاح، فن کار، ہنر مند چار کھونٹ سے یہاں آتے تھے اور اپنے کمالات کی داد پاتے تھے، اب وہ اہل علم اور اہل کمال نہیں آتے یا کم آتے ہیں تو ان کی جگہ ہزاری بزاری کاروباریوں نے لے لی ہے۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں۔

قدیم دلی والے ہمیشہ کے خوش دل، خوش اطوار، خوش طبع، خوش کلام ہوتے تھے۔ انہوں نے سدا درویشانہ زندگی اختیار کی۔ ان کی نظر میں معاشی پستی اور بلندی کے کوئی معنی نہ تھے۔ انہوں نے مال کے بجائے کھال میں مست رہنا سیکھا تھا۔ دلی والا مفلسی اور ناداری کے نام سے بھی آشنا نہ تھا۔ ان کی شانِ استغنا نے انہیں ہمیشہ ہی تونگر رکھا۔ ادھی پاؤلی کے مزدور نے بھی یہاں کسی سے بات کی تو دیو جانس کلبی کا سا تیکھا پن دکھایا۔ دلی والوں کی نازک مزاجی اور بے نیازی ہمیشہ ضرب المثل بنی رہی۔ وہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ سچ ہے جب کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا، جاہ و مال کی ہوس نہیں تو پھر للّو چپو کرنے سے کیا فائدہ۔ یہاں کے لوگ اپنے اپنے فن میں طاق، عدیم المثال اور مزاج دار ایسے ہوتے تھے کہ اگر آپ انہیں قارون کا خزانہ بھی دیں تو آپ کی چاکری نہ کریں۔ ان کے پاس فن تھا، اس کے بل پر معاش کرتے تھے۔ کسی کی غلامی کرکے آقا کی ناک بھوں دیکھنا انہیں گوارا نہ تھا۔

دلی کے حکیموں کا ذکر نہیں کیا تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔ حکیم جمیل کے ہاتھ سے ہندوستانی دواخانے کا انتظام چھینا گیا تو انہوں نے شریف منزل میں گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ والدہ کا انتقال ہوا تو بھی دروازے تک ہی کندھا دینے آئے۔ بددل ہو کر وطن مالوف سے کوچ کیا۔ دیارِ غیر میں زندگی کے بقیہ دن کاٹنے پر آمادہ ہوگئے۔ اللہ اللہ یا تو دلی والوں سے، دلی کی گلیاں نہ چھوٹتی تھیں یا وہ انقلاب آئے کہ جان و تن میں جدائی ہوگئی۔ حکیموں کے دلی پر بہت احسانات ہیں۔ مدتوں پہلے جب نزلے بخار کی وبا پھیلی تھی تو حکیم اجمل خاں نے چوراہوں پر جوشاندے کے پتیلے چڑھوا دیے تھے۔ مفت علاج کیا جاتا تھا۔ یا تو منٹ منٹ پر لہلہاتی لاشیں جا رہی تھیں یا اللہ کے حکم سے خیر عافیت ہوگئی۔ اس خاندان کے ہاتھ میں شفا تھی۔ نباض ایسے ایسے گزرے ہیں کہ سنا ہے کسی من چلے نے آزمائش کے لیے بھینس کی ٹانگ میں تاگا باندھ پردے کے پیچھے سے اس کا دوسرا سرا حکیم محمد احمد کو تھما دیا۔ حکیم صاحب نے بھوسی ٹکڑے اور کھل بنولے کا نسخہ لکھ دیا۔ بڑے بڑے راجہ نوابوں نے ان کے بل پر عیش و عشرت کی زندگی گزاری، سینکڑوں عورتوں کے حرم رکھے، لاکھوں کے نذرانے حکیم صاحب کو دیے، اراضی حق خدمت میں پیش کی۔ غریبوں کا علاج مفت کیا جاتا تھا۔ بٹوارے سے پہلے بلیماروں میں ان حکیموں کے دروازے پر بھیڑ لگی رہتی تھی۔ حکیم صاحب کو مطب سے لے کر جب ایک حکیم چلتا تھا تو پیچھے ضرورت مندوں کی بھیڑ ہوتی تھی۔ موٹریں قطار در قطار چلا کرتی تھیں۔ انہوں نے خاک بھی پڑیا میں باندھ کر دیدی تو اللہ تعالیٰ شفا عطا کرتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی حکیم عاقل خاں اور حکیم عبدالرحیم کی زندگی میں علاج کا سلسلہ قائم رہا۔ اب یہ لوگ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔

ہمدرد دواخانے کے بانی حکیم عبدالحمید کو تو آج کل والوں نے بھی دیکھا ہوگا۔ اکیلی ذات پر مجیدیا ہسپتال، میڈیکل کالج، فارمیسی تعلیم کا ادارہ، ہمدرد اسکول اور متعدد دوسرے ادارے قائم کرکے دنیا سے سدھارے ہیں۔ آخری دم تک محنت مشقت اور خلق خدا کی خدمت ان کا شعار رہا، اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، پورا ایک شہر ہمدرد نگر آباد کر گئے ہیں۔ دلی والوں کو چاہیے رات دن دعائیں دے کر ان کا حق ادا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

سید ضمیر حسن دہلوی

دلی کےسیلانی : سید ضمیر حسن دہلوی


دِلّی کے سیلانی


دلی کے سیلانی جوڑے بڑے مشہور تھے۔ یہاں کے لوگوں کو سیر سپاٹے بڑے عزیز تھے۔ ایمانداری سے کمانا اور کھانا اڑانا دلی والوں کی زندگی کا بنیادی اصول تھا۔ کرخندار جب تک اپنی کمائی کا پیسہ پیسہ خرچ نہ کردیتے تھے کارخانے کا رخ نہیں کرتے تھے۔ عرس، فاتحہ، میلے ٹھیلے، بسنت، پھول والوں کی سیر، سلطان جی کی سترہویں، اوکھلے اور محلدار خاں کی ٹر سب شاہی زمانے کی طرز پر کل تک برقرار تھے۔ سڑکوں پر موٹریں تو کم دکھائی دیتی تھیں تانگے اور ریڑھیوں کا رواج تھا۔ ببر کے تکیہ سے آگے متھرا روڈ پر رات کے اندھیرے میں گیڈر بولتے تھے۔ سترہویں کے موقع پر دلی والے اسی اندھیرے میں ریڑھیاں، تانگے دوڑاتے، سیٹیاں بجاتے، پیری بولتے چلے جاتے تھے۔ شوقین لوگ تھے۔ گھوڑوں کو جلیبیاں کھلا کے دوڑاتے تھے۔ آگے پیچھے سواریاں دوڑتیں تو بڑا مزا آتا تھا۔ سترہویں حضرت نظام الدین اولیاء کی برسی کے موقع پر منائی جاتی تھی۔ سال میں دوسری بار یہ میلہ حضرت امیر خسرو کی برسی کے لیے منایا جاتا تھا۔ درگاہ کے ارد گرد چاروں طرف کھیل کود کے لیے جھولے ہنڈولے اور کھانے پینے کے لیے حلوے پراٹھے اور مٹھائی کچوری کی دکانیں لگائی جاتی تھیں۔ قریب کے میدانوں میں پتنگ بازی کے مقابلے ہوتے تھے۔ کشتیاں اور ٹپا بازی کے مظاہرے ہوتے تھے۔ ایک خاص مقابلہ گرامو فون ریکارڈنگ کا بھی ہوتا تھا۔ دو الگ الگ پارٹیاں آمنے سامنے بیٹھ جاتی تھیں۔ ایک طرف سے کسی اچھے گیت کا ریکارڈ بجایا جاتا تھا، پھر اسی موضوع پر دوسری پارٹی اپنا کوئی ریکارڈ بجاتی تھی، مقابلے بازی کا فیصلہ آخر میں کیا جاتا کہ کس نے مقابلتاً چھے ریکارڈ بجائے۔ اللہ اللہ کیا کیا ریکارڈ سننے کو ملتے تھے، ایک سے ایک بڑھ کر۔ ان ریکارڈ بجانے والوں کے ذوق شوق کی داد دینی پڑتی تھی۔ سال بھر تک اچھے ریکارڈ جمع کرتے اور اس مقابلے میں انہیں پیش کر کے ناموری حاصل کی جاتی تھی۔ سترہویں میں آنے والے زرق برق لباس پہن کر آتے تھے۔ عورتیں اور بچے بھی بن ٹھن کر آنے کا حق ادا کردیتے تھے۔ اندر درگاہ میں حضرت کے مزار کے قریب ایک دالان میں عورتیں قیام کرتی تھیں۔ اسی دالان سے منسلک مسجد ہے جس میں بوقت نماز اچھا خاصا مجمع ہوجاتا تھا۔ باہر صحن میں قوال بیٹھ کر گاتے تھے۔ قوالی کے بول عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے مطابق ہوتے تھے، کبھی کبھی وہ فارسی کی بھی غزلیں سناتے تھے، مگر وہ اس قدر عام فہم ہوگئی تھیں کہ سننے والے ان سے حظ اٹھا سکیں۔ حضرت امیر خسرو کا رنگ بڑے زور شور سے گایا جاتا تھا۔ مجاور ادھر ادھر لوگوں کی مدارات کرتے پھرتے تھے۔ درگاہ کے قریب ہی عرس محل تھا، جہاں خواجہ حسن نظامی ایک مسند پر تشریف رکھتے تھے اور اعلیٰ درجے کے قوالوں کی جوڑیاں اس عرس محل میں خواص پسند غزلیں اور فارسی شعراء کا کلام بڑے اہتمام سے پیش کرتی تھیں۔ اس محفل میں دلی کے عمائدین اور خواص مدعو کیے جاتے تھے، اس لیے یہاں بڑا صاف ستھرا ماحول اور ادبی فضا ہوا کرتی تھی۔ خواجہ حسن نظامی کو دلی والے ضرور جانتے ہوںگے، آج بھی ان کا نام لیے جانے پر لوگوں کو ان کے گھر کی محفلیں یاد آجائیں گی۔ منادی اخبار میں لوگوں نے ان کی جاوداں نثر کا مطالعہ کیا ہوگا۔ بڑے عمدہ نثرنگار اور جادو بیان بزرگ تھے۔ا ن کے کارناموں کا ذکر کیاجائے تو ایک دفتر مرتب ہوجائے گا۔ خدا سلامت رکھے، ان کے صاحبزادے خواجہ حسن ثانی نظامی بقید حیات ہیں اور اپنی وضع داری کو نبھارہے ہیں، مگر وہ مولوی مدن والی بات اب کہاں۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ قوالیوں کے بجائے لوگ آج کل کی دھواں دھار میوزک کے عادی ہیں۔ اردو اور فارسی غزلوں کے سمجھنے والے اللہ کو پیارے ہوگئے، ایک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے، اب نہ وہ لوگ رہے جو بزرگوں سے عقیدت رکھتے تھے، نہ وہ لوگ رہے جو سیر سپاٹے کے شوقین تھے اور سال بھر کی کمائی دو چار دن میں پھونک دیتے تھے۔ یہ سب کچھ آج بھی ہوتا ہے مگر اس میں پہلی سی مزیداری نہیں، بقول غالب، چراغ بے نور ہے۔ چار سو اندھیرے کی عمل داری ہے۔ یادوں کی برات سے خوش ہونے کا سامان مہیا کیجیے اور شکر کیجیے کہ ابھی کچھ تو ہے کل یہ بھی نہ رہے گا تو آپ کیا کرلیںگے۔ گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را۔

دلی کے میلوں میں پتنگ بازی کے مقابلے بھی ضرور ہوتے تھے۔ بڑے بڑے ہاتھ لگتے تھے۔ ان مقابلوں کے لیے دنوں پہلے سے مانجھے سوتے جاتے تھے۔ آرڈر پر تکلیں بنتی تھیں، جہاز کی جہاز پتنگیں ہوتیں اور اتنی اتنی دور تک بڑھایا جاتا تھا کہ وہ پار نکل جاتی تھیں، پھر جو کھنچائی ہوتی تو گڈیاں سدھ کھڑی ہوجاتی تھیں۔ کچھ پتنگ باز ایسے تھے کہ صرف ڈھیل کے پینچ لڑاتے تھے، ان کی انگلیاں سدھی ہوئی تھیں۔ جدھر چاہتے پتنگیں جھونک کھا جاتی تھیں۔ بل دینے پر آتے تو تگنی کا ناچ نچا دیتے تھے۔ بچنے والا لاکھ بچاتا مگر ان کے پھندے سے نکلنا مشکل تھا۔ منہ سے منہ ملے اور دونوں حریفوں نے ڈھیل دینی شروع کی۔ سیروں ڈور پلا دیتے تھے۔ ایک نے ذرا غوطہ مارا تو دوسرے نے پٹیا چھوڑا۔ وہ کاٹا وہ کاٹا کا شور مچ گیا۔ کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور ہاتھ پرسے توڑ دی جاتی تھی۔ غریب لوٹنے والے لوٹ لوٹ کر بڑی بڑی انٹیاں بنالیتے تھے۔ اسی ڈور اور لوٹی ہوئی پتنگ سے وہ اپنا دل بہلاتے تھے۔

دلی میں فالیس پر جانے کا بھی راوج بن گیا تھا۔ گرمیوں کی چاندنی رات میں لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان اور گانے والیوں کو لے کر جمنا کنارے ریتیلی فالیس پر پہنچ جاتے تھے۔ رات بھر کا میلہ ہوتا تھا، سفید سفید چاندنیوں کے فرش پر لمبے چوڑے دسترخوان بچھتے، مزے مزے کے کھانے کھائے جاتے اور کھانے سے فارغ ہو کر جو گانے کی محفل ہوتی تو لوگ جھوم جھوم اٹھتے تھے۔ بڑی ٹھسے دار مجرے والیاں تھیں، غزل گا کر سمجھا تیں تو ایک ایک مصرع دلوں پر نقش ہوجاتا تھا۔ ان گانے والیوں کے رعب حسن سے تماشائی تھراتے تھے۔ مجال نہیں کہ کوئی نظر بھر کر دیکھ لے، آگے چل کر جب طوائفوں کا بازار بند ہوا اور اس فن میں چھچھور پن کا دخل بڑھنے لگا تو دلی والوں نے گراموفون ریکارڈنگ کا ہنر ایجاد کیا اور اس کا لطف اٹھانے لگے۔

بسنت کے موقع پر بھولو کے تکیہ اور محلدار خاں کے باغ میں ایسی محفل ہوتی اور داد عیش دی جاتی تھی کہ اس کے بیان سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ برسات میں امریوں کی سیر کی جاتی تھی۔ جہاز محل اور اولیا مسجد کے تلاؤ پر بیٹھ کر آم پراٹھے کھائے جاتے۔’ جھولا کن ڈار و رے امریاں‘، دلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا یہ گیت آج بھی لوگوں کے دلوں کو گرماتا ہے۔ مہرولی کی ملائی بہت مشہور تھی۔ خوش خوراک پٹھے تو سیروں ملائی چٹ کر جاتے تھے۔ دلی والوں کے برسات میں چنونے کاٹتے تھے۔ سر پر بوند پڑی اور ان کی آنکھوں میں ہوا بھری، مہرولی میں درگاہ کے پاس مستقل کمرے بنے ہوئے تھے جو سیلانیوں کو کرائے پر اٹھائے جاتے تھے۔ لوگ آ آکر یہاں ٹھہرتے اور برسات کا مزا لوٹتے تھے۔

مہرولی میں برائے نام آبادی ہونے اور اریب قریب سبزہ زار کی وجہ سے آب و ہوا اچھی تھی، لوگ اس صحت افزا ماحول میں کچھ دن رہ کر شہر کی کسلمندی دور کیا کرتے تھے۔ دلی کے مغل بادشاہ بھی کچھ دن کے لیے بنفس نفیس مہرولی میں قیام کرتے تھے۔ جہاز محل اور پھول والوں کی سیر اسی بادشاہی میلے کی یادگار ہے، جس کا مزا لینا چاہو تو مرزا فرحت اللہ بیگ کا مضمون پھول والوں کی سیر پڑھ لو۔ دم بخود رہ جاؤگے کہ اللہ ایسا بھی ایک زمانہ گزرا ہے۔ افسوس ہم نہ دیکھ سکے۔

سید ضمیر حسن دہلوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔